’بےنظیر کے قاتلوں کے مدرسے کے لیے انعام کیوں؟‘

Image caption پرویز رشید کا کہنا تھا کہ انہیں مدرسے دارالعلوم حقانیہ کے لیے رقم مختص کرنے پر انتہائی افسوس ہوا ہے

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے اکوڑہ خٹک میں واقع مولانا سمیع الحق کے مدرسے کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جس مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل میں کردار ادا کیا انھیں یہ انعام کیوں دیا گیا ہے۔‘

خیبر پختونخوا کی حکومت نے بجٹ میں دارالعلوم حقانیہ کے لیے تیس کروڑ روپے کی رقم رکھی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو حکومت کے خلاف احتجاج میں اپنے ساتھ کنٹینر پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جانب وہ ان کی والدہ کے قاتلوں سے تعلق رکھنے والوں کو انعام دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’عمران خان کو اس کا جواب دینا ہوگا۔‘

پرویز رشید کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھیں دارالعلوم حقانیہ کے لیے رقم مختص کرنے پر انتہائی افسوس ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں اس فیصلے کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ اس سے انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی

خیبر پختونخوا کی حکومت پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مدرسے کے لیے 30 کروڑ روپے مختص کرنے پر حکومتی حلقوں کے علاوہ سماجی حلقوں کی جانب سے بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

تاہم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس فیصلے کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ اس سے انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ان کے بقول ’اس سے مدرسے کے طلبہ کو معاشرے کا حصہ بنانے، مرکزی دھارے میں لانے اور انہیں بنیاد پرستی سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب طالبان نے صوبے میں انسداد پولیو مہم کی مخالفت کی اور پولیو ورکرز کو قتل کیا تو اس وقت مولانا سمیع الحق (دارالعلوم حقانیہ کے سربراہ) نے انسداد پولیو مہم کی حمایت کی تھی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے بھی اپنے دور حکومت میں دارالعلوم حقانیہ کی مدد اور حمایت کی تھی، یہاں تک کہ عبدالولی خان نے مدرسے کا دورہ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں