’ریٹنگ کو ترستا سوشل میڈیا اور وائرل ویڈیو‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ ک ریفرینڈم اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِبحث سب سے بڑا موضوع ہے

سوشلستان پر یہ ہفتہ کافی بھاری تھا، بہت سی مذمت بہت سے اظہارِ افسوس اور بہت سے تجزیے کہ اب برطانیہ کا کیا بنے گا اور یورپ کا کیا بنے گا۔ اور حسبِ توقع اور حسبِ معمول سیاسی جماعتوں کے حامیوں کے ٹرینڈز۔ چلیے دیکھتے ہیں اس ہفتے سوشلستان میں اور کیا ہوتا رہا۔

روایتی میڈیا اور نیوز چینلز کے دن گنے گئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Max Matza
Image caption کانگریس کے دھرنا دینے والے اراکین

گذشتہ دنوں امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنماؤں نے اس وقت تک ایوانِ نمائندگان سے نکلنے سے انکار کر دیا جب تک آتشیں اسلحے پر کنٹرول کا قانون منظور نہ ہو جائے۔ پے در پے فائرنگ کے واقعات کے بعد یہ اپنی جگہ ایک بڑی خبر ہے مگر اس سے بڑی خبر یہ ہے کہ جب امریکی میڈیا نے اس دھرنے کی خبریں نہیں دیں تو کانگریس کے اراکین نے پیری سکوپ اور فیس بُک پر اپنے اس دھرنے اور اپنی گفتگو اور تقاریر کو براہِ راست نشر کرنا شروع کیا۔ جسے بعد میں سی سپین چینل نے نشر کرنا شروع کیا۔

پیری سکوپ کی حد تک عام آدمی کی رسائی ایک محدود طبقے تک تھی مگر فیس بُک نے اپنے صارفین میں آہستہ آہستہ لائیو کا آپشن متعارف کروانا شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں تکنیکی طور پر عام فیس بُک پروفائل یا پیج رکھنے والے کے پاس آپشن ہے کہ وہ لائیو نشر کرنا شروع کرے۔

جہاں اس کے فوائد ہیں جیسا کہ امریکی کانگریس کے معاملے میں ہوا وہیں نقصانات بھی ہیں جیسا کہ اس سال کے دوران دوسری بار امریکی شہر شکاگو میں ایک شخص کے قتل کو براہِ راست نشر فیس بُک پر نشر کیا گیا۔ اس حوالے سے یہ فیصلہ کرنا بھی اہم ہے کہ کیا دکھایا جائے اور کیا نہیں کیونکہ فیس بُک کے صارفین کی عمر تیرہ برس سے شروع ہوتی ہے اور اس کی تصدیق کا کوئی معیار نہیں ہے۔

دوسری جانب روایتی میڈیا اب کسی گروہ یا فرد کو کوریج کے معاملے میں نظر انداز نہیں کر سکتا اور آنے والے دنوں میں انتخابات اور سیاست سے لے کر دوسرے شعبوں تک سوشل میڈیا کی لائیو ویڈیو ایک نمایاں تبدیلی لانے کا پیشِ خیمہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

تصور کریں ایک جلسہ جس میں شرکت بڑھانے کے لیے نہ بسیں اور نہ ہی ٹرالیاں چاہیے ہوں گی، ایک کلک اور آپ لائیو اور باقی کام آپ فیس بُک یا پیری سکوپ پر چھوڑیں۔

بڑھتی ہوئی بے حسی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کیا سوشل میڈیا ہمیں بے حس بنا رہا ہے یا ایسے مواد تک باآسانی رسائی دے رہا ہے جسے ہمیں دیکھنے سے پہلے جاننے کی ضرورت ہے کہ اس میں قابلِ اعتراض مواد تو نہیں؟

امجد صابری کے قتل ہی کی مثال لے لیں جن کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز آپ تک دسیوں لوگوں کے ذریعے پہنچی ہو گی جن میں آپ کے چند وٹس ایپ کے دوست احباب اور کچھ ’ڈیسپریٹ سوشل میڈیا کے پیجز جنہیں ہٹس کے لیے موزوں وائرل ویڈیو‘ ہاتھ آگئی۔

کلک بیٹ سوشل میڈیا پوسٹنگ ایک اصطلاح ہے مگر جب اس کے لیے ’ایک زخمی یا شاید ہلاک شخص جس کا تازہ خون بہہ رہا ہے کی ویڈیو کو استعمال کیا جا رہا ہو تو یقیناً کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے‘۔

لوگوں نے سوشل میڈیا پر لکھاکہ ’امجد صابری کے چھوٹے بچے ہیں جو شاید فیس بُک یا سوشل میڈیا تک رسائی رکھتے ہوں گے اگر وہ دیکھیں گے تو اُن پر کیا گزرے گی؟‘

مگر جب مدعا لائکس اور ہِٹس ہوں تو پھر کوئی کیا کہے؟

اہم بات یہ ہے کہ بچے تو سب کے ہوتے ہیں یا شاید ہم بھی کسی کے بچے ہیں تو ایسی پوٹس لگانے اور شیئر کرنے سے پہلے اگر اپنے آپ کو امجد صابری کی جگہ رکھ کر دیکھیں اس کےبعد جو جی میں آئے کر لیں مگر یاد رکھیں اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے اور یہ یک طرفہ راستہ ہے۔

اس ہفتے کون سوشل ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Food Fusion
Image caption فوڈ فیوژن کے بانی اسد میمن اور اُن کی اہلیہ جنہوں نے اسے اپنے سرمائے اور بہت بنیادی سطح سے شروع کیا

رمضان کا مہینہ ہے تو کچھ بات کھانے پینے کی ہو جائے۔ فیس بُک پیج ٹیسٹی کا تو آپ سب کو پتا ہو گا مگر اب کراچی کے ایک جوڑے نے فوڈ فیوژن کے نام سے ایک ایسی ہی پیشکش کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے اُن کا مقصد ہے کہ وہ ’کھانا پکانے کو دلچسپ بنانا چاہتے ہی ایک ایک ویڈیو کے ذریعے‘ اور ان کی ویڈیوز صرف دو منٹ کی ہوتی ہیں جو فیس بک اور یوٹیوب پر اپ لوڈ کی جاتی ہیں اور ان میں رومن اور انگریزی میں اشیا کی تفصیل دی جاتی ہے۔ آپ بھی اسے آزما کر دیکھیں۔

اس ہفتے کی تصویر

مارک زُکربرگ دنیا کے بااثر ترین افراد میں شامل ہیں اور فیس بُک کی شکل میں ایک ایسی ریاست کے بانی ہیں جس پر دنیا کی ایک آْبادی بستی ہے۔ مگر ایسا کیا ہے جس سے مارک ڈرتے ہیں؟ اُن کی یہ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Zuckerbeg

تو آپ کو کچھ عجیب نہیں لگا؟ چلیں اب نیچے اس تصویر کو دیکھیں جس میں مارک کے لیپ ٹاپ پر اُن کے مائکروفون اور کیمرے پر ٹیپ لگی ہوئی ہے۔ یہ اس دور میں جاسوسی اور اس کے خوف کی بڑی علامت ہے جو صرف حکومتوں ہی نہیں بلکہ ہر قسم کے لوگوں سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mark Zuckerberg

اس ہفتے کی دوسری تصویر پاکستانی اخبار پاکستان ٹو ڈے کی ہیڈ لائن ہے جو امجد صابری کی ہلاکت کے بعد کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistan Today
Image caption ترجمہ: ’صرف امجد صابری ہی نہیں نیشنل ایکشن پلان بھی ہلاک ہو گیا ہے۔‘

اسی بارے میں