سوات میں جھڑپ، دو شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں دو شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سوات کے سیاحتی علاقے مالم جبہ خوڑ پٹے میں ہونے والی جھڑپ میں ایک اہلکار زخمی بھی ہوا ہے۔

٭ سوات میں پولیس موبائل پر حملہ

سوات سے صحافی انور شاہ کے مطابق یہ جھڑپ ایک سرچ آپریشن کے دوران ہوئی جب شدت پسندوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔

ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے حوالے سے سکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ وہ دونوں افغانستان سے تربیت حاصل کر کے واپس آئے تھے اور ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

حکام کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن اب بھی جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق جھڑپ کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک بھی ہوا ہے تاہم سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

سوات میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

14 جون کو سوات کے تحصیل کبل میں شدت پسندوں نے پولیس موبائل پر حملہ کر کے تین اہلکاروں کو زخمی کر دیا تھا اور اس کے بعد ہونے والے آپریشن میں تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ سوات اور بونیر کے سرحدی علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا تھا۔

اسی بارے میں