وزیراعظم کی نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن میں پٹیشن دائر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان پیپلز پارٹی نے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے اہل خانہ کا نام آنے کے بعد نواز شریف اور شہباز شریف سمیت پانچ ارکان پارلیمان کو نااہل قرار دینے سے متعلق ایک درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی ہے۔

درخواست میں ان دونوں کے علاوہ وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر اور حمزہ شہباز کے نام بھی شامل ہیں۔

٭ پیپلز پارٹی نواز شریف کی نااہلی کے لیے پیٹیشن دائر کرے گی

٭ وزیراعظم کے خلاف پی ٹی آئی کی پٹیشن الیکشن کمیشن میں

ایک ہزار سے زائد صفحات پر مبنی یہ درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سردار لطیف کھوسہ کی جانب سے پیر کو الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سنہ 1985 سے لے کر سنہ 2013 تک الیکشن کمیشن میں اثاثوں کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔

اس درخواست کے ساتھ وزیر اعظم کے بچوں، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا بیان اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے بیانات کو لف کرنے کے ساتھ ساتھ ان بیانات کی ویڈیو بھی لگائی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کے خلاف مقدمات اور اس میں ہونے والی تفتیش بھی اس درخواست کے ساتھ لگائی گئی ہے۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ شریف برادران نے اثاثے الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر نہیں کیے بلکہ حقائق کو بھی چھپایا ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے لہذا ان افراد کو نا اہل قرار دیا جائے۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت نے بدعنوانی کے خلاف ایک موقف اپنایا ہے اور انھیں امید ہے کہ پاکستانی عوام ان کا ساتھ دے گی۔

انھوں نے کہا کہ اگر پاناما لیکس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بھی نام ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانامالیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کا نام آنے سے پہلے وزیر اعظم کے بچوں نے 42 ملین پاؤنڈ سے لندن کے ایک مہنگے علاقے میں جائیداد خریدی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس میں دنیا کے جن رہنماؤں کے نام آئے ہیں وہ اخلاقی طور پر مستعفی ہوگئے جب کہ پارلیمانی کمیٹی میں حکمراں جماعت اپنے وزیر اعظم کو بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے حکومت کی طرف سے بھیجے گئے ضوابط کار کو مسترد کرنا حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف نے بھی وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے پہلے ہفتے میں الیکشن کمیشن کے ارکان کی مدت ملازمت پوری ہو جانے کے بعد تاحال کمیشن کے نئے ارکان کا انتخاب نہیں کیا جا سکا ہے۔

جب تک الیکشن کمیشن کی تشکیل مکمل نہیں ہوتی اس وقت تک ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں