’حکومت تشدد کے خلاف اقدامات کرنے سے ہچکچا رہی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسین نقی نے کہا کہ انسانی حقوق کے بگڑتے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو فوراً تشدد کے خلاف بل تشکیل دینا چاہیے

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قوانین پر عمل درآمد کے بعد سے تشدد اور ایذا رسائی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور انسانی حقوق کی صورتحال بد ترین ہوتی جا رہی ہے۔

یہ بات معروف صحافی اور پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے کارکن حسین نقی نے بی بی سی اردو کے لاہور سے پہلے فیس بک لائیو میں کہی ـ

بی بی سی اردو نے حال ہی میں فیس بک پر لائیو گفتگو کا سلسلہ شروع کیا ہے جو فیس بک کی اس سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے صارفین کے لیے اہم واقعات اور موضوعات پر گفتگو اور بات چیت کی نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔

اس بار لاہور سے اسے صبا اعتزاز نے ملک بھر میں جاری پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے تشدد اور ایذا رسائی کے خلاف احتجاج کے مقام سے پیش کیا اور اس معاملے پر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے منسلک سینیئر صحافی حسین نقی سے بات کی۔

حسین نقی نے کہا کہ گو کہ پاکستان نے 2010 میں تشدد اور ایذا رسائی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کی توثیق کی ہے لیکن حکومت اس کے بعد نہ تو اس کی روک تھام کا کوئی لائحہ عمل سامنے لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی قانون سازی کر پائی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ریاست عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے تو کیا اس پر توجہ دینے کی ضرورت تو نہیں؟

انھوں نے کہا کے ملک میں انسانی حقوق کے بگڑتے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت کو فوراً تشدد کے خلاف بل تشکیل دینا چاہیے بلکہ تشدد اور ایذا رسائی کو قانونی طور پر جرم قرار دینا چاہیے۔ حسین نقی نے کہا کہ سینیٹ میں اس پر بحث ضرور کی جاتی ہے لیکن لگتا ایسے ہے جیسے حکومت تشدد کے خلاف اقدامات پر عمل درآ مد کرنے سے ہچکچا رہی ہے ـ

حسین نقی کے خیال میں ملک میں بگڑتے ہوئے سکیورٹی کے حالات کے وجہ سے انسداد دہشت گردی کے قوانین بنا دیے گیے لیکن ان کی نگرانی کا کوئی واضع نظام نہ ہونے کی وجہ سے تشدد کے واقعات مزید بڑھ رہے ہیں ـ انھوں نے کہا کہ حکومت کو پولیس اور دفاعی اداروں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں معصوم لوگ اس کی قیمت تو نہیں چکا رہے؟

مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ریاست عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے تو کیا اس پر توجہ دینے کی ضرورت تو نہیں کہ کہیں انسداد دہشت گردی کا عمل عام شہریوں کو مزید دہشت زدہ تو نہیں کر رہا؟

یہ ساری گفتگو سنیے ہمارے فیس بک پیج پر اس ویڈیو میں

اسی بارے میں