’القاعدہ الظواہری کے رشتہ داروں کی رہائی چاہتی تھی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

تین برس تک اغواکاروں کے قبضے میں رہنے کے بعد افغانستان سے بازیاب ہونے والے سابق پاکستانی وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ القاعدہ ان کے بدلے ایمن الظواہری کے خاندان کی چند خواتین کو رہا کروانی چاہتی تھی۔

علی حیدر کو مئی سنہ 2013 میں ملتان سے انتخابی مہم کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا اور وہ گذشتہ ماہافغان صوبے پکتیکا سے امریکی فوج کی کارروائی میں بازیاب ہوئے ہیں۔

٭ ’اے سی چلے تو لگتا ہے سر پر ڈرون گھوم رہا ہے‘

٭ دو ماہ میں دو رہائیاں، کوشش یا حسن اتفاق؟

لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر بی بی سی اردو کو اپنے پہلے اور خصوصی انٹرویو میں علی حیدر گیلانی نے اپنی تین سال کی اسیری پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ تین سال تک القاعدہ کے قبضے میں رہے تھے اور کراچی سے تعلق رکھنے والا القاعدہ کا ایک اہم رکن ضیا ان کے ساتھ تین سال تک رہا۔

’القاعدہ میرے بدلے میں ڈاکٹر ایمن الظواہری کے خاندان کی چند قید خواتین کی رہائی اور بھاری رقم کا تقاضا کر رہی تھی۔‘

علی گیلانی کا کہنا تھا کہ اغوا سے قبل اگرچہ انھیں کوئی دھمکی نہیں ملی تھی تاہم انھیں یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔

’ایک ہفتہ قبل ایک دوست نے بتایا تھا کہ ایک گاڑی آپ کا پیچھا کر رہی تھی اور بعد میں وہ کہیں کھڑے گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر رہے تھے۔ میں اپنی سکیورٹی سے مطمئن تھا۔ انتخابی کمیشن کے ضابطۂ اخلاق کے مطابق ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی تھی اس لیے میرے محافظوں نے اپنے ہتھیار گاڑی میں چھوڑ دیے تھے۔

اپنے اغوا کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا ’ایک جلسے کے بعد بہت سارے لوگوں اور اپنے دو محافظوں کے ساتھ میں باہر نکالا تو کسی نے میری گردن سے پکڑ کر مجھے زور سے دھکا دیا اور میں زمین پر گر گیا۔ پھر میں نے گولیوں کی آواز سنی اور اپنے دونوں محافظوں کو گرتے دیکھا۔ میں زمین پر لیٹا تھا کہ انھوں نے بندوق میرے سر پر دے ماری اور میرا سر پھٹ گیا۔ مجھے اس وقت لگا کہ شاید مارنے آئے ہیں۔‘

علی حیدر گیلانی کے مطابق ان کے اغواکاروں کی تعداد چھ تھی۔

’انھوں نے مجھے گاڑی میں ڈالا اور اس خوف سے کہ کوئی جاسوسی کے آلات میرے کپڑوں میں نہ ہوں میرے کپڑے اور جوتے اتار کر باہر پھینک دیے۔

’ان کا مجھ سے پہلا سوال یہ تھا کہ آپ سنی ہو یا شیعہ۔ مجھے لگا کہ یہ کوئی فرقہ وارانہ واردات ہے۔ انھوں نے میری آنکھوں پر پٹی نہیں باندھی تھی لہٰذا میں انھیں دیکھ سکتا تھا لیکن اب ان کے چہرے بھول گیا ہوں۔ وہ سب پنجابی زبان میں باتیں کر رہے تھے۔ پھر مجھے خاموش رہنے کے لیے کہا اور ایسا نہ کرنے پر گولی مارنے کی دھمکی دی اور گاڑی ملتان سے خانیوال روڈ پر ڈال دی۔‘

Image caption علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا

’دو اغوا کار خانیوال میں گاڑی سے اتر گئے۔ پھر وہ مجھے فیصل آباد لے آئے۔ جس گاڑی میں ہم سفر کر رہے تھے اس پر انتخابی پوسٹرز اور جھنڈے لگے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنا تعارف القاعدہ کے طور پر کروایا اور کہا کہ آپ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے ہیں اس لیے آپ کو اغوا کیا ہے۔ آپ کے والد کے دور میں اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد کے علاوہ سوات اور وزیرستان میں کارروائیاں ہوئیں۔ آپ دشمن ہیں ہمارے!‘

سابق وزیرِ اعظم کے صاحبزادے نے بتایا کہ اغوا کے بعد انھیں کچھ عرصے تک فیصل آباد میں رکھا گیا جہاں سے انھیں وزیرستان منتقل کیا گیا۔

’ملتان سے فیصل آباد تک سفر میں کوئی پولیس چوکی نہیں آئی اور نہ کوئی کہیں چیکنگ ہوئی۔ مجھے کوئی اڑھائی ماہ تک فیصل آباد میں ایک مکان میں رکھا گیا۔ اخبار وہاں آتے تھے اس لیے اندازہ ہوا کہ یہ فیصل آباد ہے۔ انھوں نے مجھے زنجیر سے باندھ کر رکھا بلکہ بعض اوقات وہ رات کو سوتے ہوئے ہاتھوں میں بھی زنجـیر پہنا دیتے تھے۔‘ وہاں انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ مجھے وزیرستان لے کر جا رہے ہیں دو ماہ کے لیے جہاں سے وہ مجھے رہا کر دیں گے کیونکہ ان کی میرے خاندان سے ڈیل ہوگئی ہے۔ شاید وہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ سفر کے دوران میں کہیں مزاحمت نہ کروں۔

’22 جولائی 2013 کو وہ مجھے ایک گاڑی میں براستہ موٹر وے بنوں سے وزیرستان لے گئے۔ انھوں نے مجھے اور دو اور لوگوں کو برقعے پہنا دیے اور چپ رہنے کے لیے کہا۔ بنوں سے وزیرستان جاتے ہوئے کوئی دس فوجی چوکیاں آئیں۔ایک دو پر شناخت کے لیے روکا گیا لیکن صرف ڈرائیور کا شناختی کارڈ دیکھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ مسافروں کی چیکنگ نہیں کر رہے تھے۔ (شمالی وزیرستان میں) میں ڈانڈے درپہ خیل میں مجھے سات ماہ تک رکھا گیا۔ وہاں بھی سارے پنجابی بولنے والے اور ایک جرمن مغوی تھا جسے ملتان سے اٹھایا گیا تھا۔‘

(ایک غیرسرکاری تنظیم کے لیے کام کرنے والا یہ جرمن شہری برنڈ موہلن بیک جنوری 2012 میں اغوا ہوئے اور اکتوبر 2014 میں رہا ہوئے۔ عام تاثر ہے کہ انھیں تاوان کی ادائیگی کے بعد رہائی ملی لیکن جرمن حکومت اس سلسلے میں کچھ نہیں بتایا کہ وہ کیسے اور کہاں رہا ہوئے۔ صرف اتنا کہا تھا کہ وہ ایک ’غیرملکی دوست’ کی مدد سے بازیاب ہوئے تھے۔)

علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔

’مجھ پر انھوں نے کبھی جسمانی تشدد نہیں کیا لیکن ذہنی دباؤ میں رکھتے تھے۔ زنجیر کی وجہ سے بیت الخلا جانے میں دقت وغیرہ کافی رہی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ڈرون حملوں میں القاعدہ برصغیر کے رہنما اور لاہور سے اغوا کیے گئے امریکی شہری ڈاکٹر وارن وائنسٹائن کی ہلاکت کے بعد انھیں طالبان کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

’دتہ خیل میں ایک ڈرون حملے کے بعد مجھے طالبان کے حوالے کر دیا گیا جو مجھے شوال لے گئے۔ یہ سجنا گروپ تھا جن کے پاس میں نے 14 ماہ گزارے۔ تاریخ، دن اور ماہ مجھے اس لیے آج بھی یاد ہیں کہ میں تواتر سے ڈائری لکھتا تھا جو وہ باقاعدگی سے جلا دیتے تھے۔ انھوں نے مجھے پڑھنے کے لیے کتابیں بھی دی تھیں۔‘

قید کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے علی حیدر کا کہنا تھا ’قید کے دوران میں نے 14 ماہ تک آسمان نہیں دیکھا۔ کمرے میں ایک بلب 24 گھنٹے جلتا رہتا تھا۔ قدرتی روشنی ناپید تھی۔ میں نے ایک دن تنگ آ کر اغوا کاروں سے کہا کہ کم از کم یہ بلب رات کے وقت تو بند کر دیا کرو تاکہ مجھے دن اور رات کا کوئی اندازہ تو ہو۔‘

ان کے مطابق ان حالات میں ذہنی توازن برقرار رکھنے کے لیے تین چیزیں ضروری تھیں۔ ’ایک اس بات پر ایمان کہ اللہ مدد کرے گا، دوسری امید کہ ایک دن رہائی نصیب ہوگی اور تیسرا صبر۔ یہ تینوں چیزیں مجھے اچھی ذہنی حالت میں رکھنے کے لیے اہم تھیں۔ میں نے اپنے کمرے کی دیوار پر لکھا ہوا تھا ’وکٹری کمز ود پیشینس’ یعنی فتح صبر سے ملتی ہے۔ میں روزانہ اٹھ کر یہ پڑھتا تھا۔‘

علی حیدر کا کہنا تھا کہ انھیں باہر کی دنیا کے ساتھ رابطہ اچھا لگتا تھا اور اس سلسلے میں انھیں جو بھی موقع ملا انھوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

’طالبان کو کرکٹ کا شوق تھا۔ ورلڈ کپ کے دوران جب پاکستان جنوبی افریقہ کے خلاف میچ کھیل رہا تھا تو میں نے اپنے اغوا کاروں سے درخواست کی کہ مجھے میچ دیکھنے دیں۔ انھوں نے ٹی وی تو نہیں لیکن ریڈیو کا بندوبست کر دیا۔ کمرے کے اندر سگنل صاف نہیں آ رہے تھے لہٰذا میں ریڈیو اور سلیپنگ بیگ لے کر باہر آگیا۔ پھر وہ میچ میں نے برفباری کے دوران سنا اور پاکستان جیت گیا تو خوشی کی انتہا بھی نہ تھی۔‘

’سب سے برا وقت مجھ پر جب میں نے اپنے ایک کزن کی حج میں بھگڈر کے دوران ہلاکت کی خبر سن کر ہوا تھا۔‘

ان کے مطابق انھیں رواں برس ہی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات سے افغانستان منتقل کیا گیا تھا۔

’اس سال فروری میں جب پاکستان فوج نے دتہ خیل اور شوال میں کارروائی شروع کی تو مجھے افغانستان منتقل کر دیا گیا۔ وہاں کے علاقوں کے نام مجھے نہیں معلوم لیکن شاید پکتیکا کا علاقہ تھا۔ ہم نے وہاں بھی دو تین مقامات تبدیل کیے۔ ویسے تو میں جنگی علاقے میں تھا تو ڈرون اور پاکستان فضائیہ کے حملے اکثر ہوتے رہتے تھے۔

’جب بمباری شروع ہوتی تھی تو وہ ہمیں لے کر باہر کھلے علاقے میں چلے جاتے تھے۔ میں نے 200 گز کے فاصلے سے جیٹ طیارے کا حملہ دیکھا ہے۔ پنجاب کے سابق وزیر داخلہ شجاع خانزادہ کی ہلاکت کے بعد میں نے پاکستانی فضائیہ کی دتہ خیل پر بمباری دیکھی تھی۔ خوفناک آوازیں ہوتی تھیں۔ نشانہ ٹھیک لگاتے تھے لیکن ان گھروں میں اکثر کوئی نہیں ہوتا تھا۔ شدت پسند پہلے ہی نکل جاتے تھے۔‘

دورانِ قید اہلخانہ سے رابطوں کے بارے میں بتاتے ہوئے علی حیدر گیلانی نے کہا ’انھوں نے دو سال میں صرف دو مرتبہ میری بات گھر کروائی تھی افغان موبائل سم سے۔ ایک مرتبہ والدہ سے بات کی تھی اور دوسری مرتبہ والد سے۔ انھوں نے میری کئی ویڈیوز بھی بنائیں لیکن جاری دو ہی کیں جن میں میں حکومت اور اپنے خاندان سے ان کی بات سننے کو کہتا تھا۔‘

علی حیدر کے مطابق ان کے اغواکاروں کے مطالبات غیرحقیقی تھے جیسے کہ امریکی فوج کا افغانستان سے مکمل انخلا، قیدیوں کی رہائی اور رقم کا تقاضہ لیکن پیسہ ان کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں ان کے اغوا کار اکثر بتاتے تھے کہ اگر ان کی رہائی کے لیے کوئی فوجی کارروائی ہوئی تو سب سے پہلے وہ خود انھیں گولی مار دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption علی حیدر گیلانی مئی 2016 میں افغان صوبے پکتیکا سے امریکی فوج کی کارروائی میں بازیاب ہوئے

بازیابی کے آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے علی حیدر نے کہا ’جب نو مئی کا دن آیا۔ اس روز اتفاق سے میں بہت افسردہ تھا۔ شام کو القاعدہ کا آدمی آیا اور کہا کہ آج چھاپہ پڑے گا۔ نماز عشا کے بعد وہ مجھے مکان سے باہر لے گئے۔ وہ مجھے پاکستان کی جانب لے جا رہے تھے اتنا تو اندازہ تھا مجھے۔ مجھے سرحدی پہاڑ دکھائی دے رہے تھے۔ میرے پاؤں کے چپل اتر گئے تھے۔ ایسے میں دو امریکی شنوک ہیلی کاپٹر اور شاید دو بغیر آواز والے کوبرا تھے جو ہم پر روشنی ڈال رہے تھے۔ میرے اغوا کار نے پہلے کہا لیٹ جاؤ میں لیٹ گیا پھر کہا بھاگو۔‘

علی گیلانی کے مطابق وہ خوش ہیں ان نازک لمحات میں انھوں نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے وہ زندہ بچ گئے۔

’میں اغوا کاروں کے ساتھ بھاگنے کی بجائے دوسری سمت میں دوڑا۔ تین چار فائر ہوئے۔ مجھے یقین تھا کہ میں بھی مارا جاؤں گا۔ بس یہ چند سیکنڈز کی دوری نے مجھے بچا لیا۔ القاعدہ کے اغوا کار کے مرنے کے بعد امریکیوں نے مجھ سے پشتو میں کچھ کہا۔ میں نے چیخ کر جواب دیا انگلش۔ تو انھوں نے پھر مجھے قمیض اتارنے اور ہاتھ اونچے کرنے کی ہدایات دیں۔ امریکی فوجی آیا اور اس نے میرے ہاتھ پیچھے باندھ دیے۔

میں نے اسے اپنا تعارف کروایا کہ میں علی حیدر گیلانی ہوں اور میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم کا بیٹا ہوں۔ تو وہ حیران ہوا۔ اس نے میری آنکھوں میں روشنی ڈال کر دیکھا اور کہا کہ اس کا رنگ تو نہیں ملتا۔ پھر سر دیکھا اور کہا کہ ہیئر لائن بھی نہیں ملتی۔ شاید وہ کسی اور کے ساتھ مجھے ملا رہے تھے۔ پھر اس نے اپنے ہیڈکوارٹر سے رابطہ کیا اور منٹوں میں تصدیق آ گئی تو اس نے مجھ سے کہا۔ ’مسٹر گیلانی یو آر گوئنگ ہوم۔‘

اسی بارے میں