عدالت کے حکم پر سابق بریگیڈیئر کی رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بریگیڈیئر علی کے خلاف سیالکوٹ میں ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی جون 2012 میں مکمل ہوئی تھی

کالعدم تنظیم حزب التحریر سے تعلق رکھنے کے الزام میں فوجی عدالت سے پانچ سال قید کی سزا پانے والے پاکستانی فوج کے سابق بریگیڈیئر علی کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر رہا کر دیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ علی کو مئی 2011 میں جی ایچ کیو میں واقع ان کے دفتر سے حراست میں لیا گیا تھا۔

٭ بریگیڈیئر علی سمیت پانچ فوجی افسران کو سزا

ان پر ابتدائی طور پر ایف 16 طیارے سے فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کا منصوبہ بنانے کا الزام تھا۔

بریگیڈیئر علی کے خلاف فوج کے ایک میجر جنرل کی سربراہی میں سیالکوٹ میں ہونے والی کورٹ مارشل کی کارروائی چھ ماہ جاری رہنے کے بعد جون 2012 میں مکمل ہوئی تھی۔

کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران استغاثہ نے ان میں سے بعض الزامات واپس لے لیے تھے اور فوجی عدالت نے اُنھیں حزب التحریر سے تعلق رکھنے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بریگیڈیئر (ر) علی پر ابتدائی طور پر ایف 16 طیارے سے فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے فوجی قیادت کو قتل کرنے، سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے اور کالعدم تنظیم حزب التحریر کے ساتھ روابط رکھنے کے الزامات تھے

مقدمے میں بریگیڈیئر (ر) علی کے وکیل الیاس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ اُنھوں نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کی تھی کہ چونکہ ان کے موکل حراست کے دوران ہی ریٹائر ہو چکے تھے اس لیے اُن کا کورٹ مارشل نہیں کیا جا سکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ نے رواں سال کے آغاز میں ہی بریگیڈیئر علی کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم انھیں 27 جون کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی ملی ہے۔

الیاس صدیقی کے مطابق مختلف اوقات میں اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے 17 جج صاحبان تبدیل ہوئے۔

فوجی عدالت سے سزا کے وقت بریگیڈیئر علی کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ کہ اُن کے موکل کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے واقعے کے بعد چار مئی سنہ 2011 کو جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ نکتہ اُٹھایا گیا تھا کہ یہ واقعہ یا تو ملی بھگت سے ہوا ہے اور یا پھر ہماری ناکامی ہے لہٰذا ذمہ داروں کو سزا دی جائے۔

اسی بارے میں