سندھ میں اقتصادی راہداری کے لیے ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’راہداری کے لیے 2000 سابق فوجیوں کی بھرتی کا عمل جاری ہے‘ ( فائل فوٹو، کراچی پولیس)

پاکستان میں صوبہ سندھ کی حکومت نے صوبے میں اقتصادی راہداری منصوبوں پر کام کرنے والے 9 ہزار چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے 26 سو ریٹائرڈ فوجی بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ حکومت کے مطابق اقتصادی راہدری کے 38 منصوبوں میں سے 19 منصوبے سندھ میں ہوں گے جہاں 9 ہزار چینی شہری کام کریں گے۔

کراچی میں وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان چین اقتصادی راہدری بریگیڈ کے بریگیڈیئر فرحان نے بتایا کہ یہ منصوبے توانائی، سڑکوں اور ریلوے کے شعبے میں ہوں گے۔ اس کے علاوہ 26 اقتصادی زون بنائے جائیں گے جن میں سے 20 اقتصادی زون صوبہ سندھ میں ہوں گے۔

’پاکستان چین اقتصادی راہدری کے علاہ 132 دیگر منصوبے شامل ہیں جن میں سے 80 نجے شعبے اور 80 کے قریب سرکاری ہیں۔‘

صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، کور کمانڈر لیفیٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ،خفیہ اداروں کے صوبائی سربراہان ، سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو، مولا بخش چانڈیو اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں چین اقتصادی راہدری کی سکیورٹی منصوبے کی منظوری دی گئی۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بتایا کہ راہداری کے لیے 2000 سابق فوجیوں کی بھرتی کا عمل جاری ہے، جن میں سے 168 اہلکار بھرتی کیے جا چکے ہیں 487 کی بھرتی آخری مراحل میں ہے جبکہ باقی آسامیوں کے لیے امیدوار دستیاب نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’شہر میں 538 مقامات پر 2292 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں ان کا معیار اچھا نہیں ہے‘

کور کمانڈر نوید مختار نے انھیں بتایا کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شرف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان سابق فوجیوں کی خدمات دی جائیں گی جو سندھ کا ڈومیسائل رکھتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لیے 2000 سابق فوجیوں کی بھرتی ناکافی ہے۔انھوں نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ مزید 600 بھرتیوں کے لیے سمری تیاری کی جائے۔

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے بیٹے کی بازیابی کے لیے پولیس 145 چھاپے مار چکی ہے، اغوا کے 48 گھنٹوں کے بعد اویس شاہ کے فون پر لنڈی کوتل سے سرگرمی نوٹ کی گئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ جس کار میں اویس شاہ کو اغوا کیا گیا اس قسم کی پاکستان میں 3000 کاریں درآمد کی گئی ہیں جن میں سے 700 کراچی میں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کار کی نمبر پلیٹ ’ایس پی‘تھی جو کمپیوٹرائزڈ تھی، پولیس ان تمام لوگوں سے پوچھ گچھ کر چکی ہے جو کمپیوٹرائزڈ نمبر پلیٹس بناتے ہیں۔

آئی جی نے نامور قوال امجد صابری کے قتل کی تفتیش سے کمیٹی کو آگاہ کیا صابری کو 30 بور پستول سے قتل کیا گیا جو عام طور پر ٹارگٹ کلر استعمال نہیں کرتے صرف کالعدم تنظیموں کے قاتل استعمال کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ امجد صابری کے قتل کی تین رخوں ملکیت کے تنازعے، فرقہ وارانہ بنیادوں اور سیاسی مقصد کے حصول کے لیے قتل کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ شہر میں 538 مقامات پر 2292 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں ان کا معیار اچھا نہیں ہے اور کئی ناکارہ ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر میں 12 میگا پکسل کیمروں کی ضرورت ہے۔

کور کمانڈر لیفٹیننٹ نوید مختار نے آئی جی کے موقف کی تائید کی ان کا کہنا تھا کہ 2292 کیمرے ناکافی ہیں کیونکہ لندن کراچی سے چھوٹا شہر ہے لیکن وہاں بھی 60 ہزار کیمرے ہر وقت ہر فرد کی ریکارڈنگ کرتے رہتے ہیں۔

گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے تجویز پیش کی کہ سی سی ٹی وی نیٹ ورک کے لیے ایک علیحدہ کمشنریٹ قائم کیا جائے جو اس کی تنصیب اور دیکھ بھال کی نگرانی کرے۔

وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے چیف سیکریٹری صدیق میمن، آئی جی اے ڈی خواجہ اور ہوم سیکریٹری پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جو مل بیٹھ کر ایک اتھارٹی کا مسودہ پیش کرے گی جو سی سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور نگرانی کی ذمہ دار ہوگی اور یہ ہی اتھارٹی فوٹیج جاری کرنے کی بھی مجاز ہوگی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ ہائی پروفائل مقدمات کی تحقیقات کرنے والے افسران کو خصوصی مراعات دی جائیں گی، اسی طرح ان سرکاری وکلا کو ترغیب دی جائیگی جو مقدمات جیتیں گے۔

آئی جی نے اجلاس کو مزید آگاہ کیا کہ تحقیقاتی شعبے کے 200 انسپکٹرز اور پراسیکیوشن کے 170 انسپکٹرز کی بھرتی کے لیے پبلک سروس کمیشن نے کارروائی شروع کر دی ہے۔

اسی بارے میں