ایم ٹی سی آر میں شمولیت ابھی ترجیح نہیں: پاکستان

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption این ایس جی ایک رضاکارانہ گروپ ہے اور پاکستان اس کے ضوابط پر پہلے ہی سے عمل پیرا ہے

پاکستان نے کہا ہے کہ میزائل ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول رکھنے والے ممالک کے گروپ میں شمولیت کے لیے مناسب وقت پر درخواست دی جائے گی۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل ہی انڈیا نے میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجیم پر دستخط کیے جس کا مقصد میزائل ٹیکنالوجی کے غیر قانونی پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

امریکہ این ایس جی میں بھارت کی رکنیت کے لیے کوشاںامریکہ پوری دنیا نہیں، بھارت جان لے: چیناین ایس جی : پاکستان کا موقف کس قدر مضبوط؟

اپنی ہفتے وار پریس بریفنگ میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے کہا کہ میزائل ٹیکنالوجی کی برآمد پر کنٹرول رکھنے والے ممالک کے گروپ میں شمولیت کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ابھی مناسب وقت نہیں ہے۔

’اس طرح کے فیصلوں کے لیے کئی حلقے بات چیت کرتے ہیں کہ ہمارے حق میں کیا بہتر ہے اور کس چیز پر کام کرنا چاہیے۔ ویسے بھی یہ ایک رضاکارانہ گروپ ہے اور پاکستان اس کے ضوابط پر پہلے ہی سے عمل پیرا ہے۔‘

تاہم نفیس زکریا نے واضح کیا کہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں رکنیت کے لیے کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں نیوکلیئر گروپ کے ابتدائی اجلاس میں انڈیا کی رکنیت کو رد کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے موقف کی کئی ممالک نے توثیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ NSG
Image caption انڈیا چین کی سخت مخالفت کے باوجود تاحال نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں شمولیت کا خواہاں ہے

’نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کے رکن ممالک نے اس پر بحث غیر رسمی طور پر کی اور یہ کہا گیا کہ جب تک ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے پر دستخط نہ کیے جائیں تب تک گروپ کے رکن نہیں بن سکتے۔‘

نفیس زکریا نے مزید کہا کہ پاکستان نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کے لیے اہل ہے۔

خیال رہے کہ نہ پاکستان اور نہ ہی انڈیا نے اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دوسری جانب، امریکہ کے ساتھ 2008 میں سول جوہری معاہدے کے بعد سے انڈیا جوہری مواد کے عدم پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کنٹرول کرنے والے کئی اہم گروپوں میں شمولیت کی کوششیں کر رہا ہے۔

انڈیا چین کی سخت مخالفت کے باوجود تاحال نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں شمولیت کا خواہاں ہے۔ انڈیا نے اپنے ردِ عمل میں بیجنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا اس کی نیوکلیئر گروپ میں رکنیت کہیں نہیں جا رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپریل میں امریکی حکام نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی خریداری کی مد میں دی جانے والی 70 کروڑ ڈالر کی امداد روک لی تھی

نفیس زکریا نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ امریکہ سے ایف 16 جنگی طیاروں کی خرید و فروخت پر بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔

’امریکہ نے اصولاً منظوری دی تھی لیکن مالی مدد پر معاملہ پھنس گیا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا اہم کردار ہے اور ہماری صلاحیت بہتر کرنے کے لیے یہ ایف سولہ طیارے دیے جانے تھے۔‘

تاہم، انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات وسیع ہیں اور ایک مسئلے پر خراب نہیں ہوتے۔

یاد رہے کہ اپریل میں امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے احکامات پر امریکی حکام نے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی خریداری کی مد میں دی جانے والی امداد روک لی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں پاکستان کو آٹھ ایف سولہ طیارے خریدنے کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی رقم خود ادا کرنا ہوتی۔

اسی بارے میں