’نوٹس کے بعد غلطی دہرانے پر ٹی وی چینل بند کر دیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پیمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد نہیں کرنا چاہتے لیکن اظہار رائے بھی آئین اور قانون کے دائرہ کار میں ہو‘۔

اطلاعات ونشریات سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ جو ٹی وی چینل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی طرف سے تین مرتبہ اظہار وجوہ کانوٹس ملنے کے باوجود غلطی دہرائے تو اس چینل کو بند کردیا جائے۔

کمیٹی نے نجی ٹی وی چینل جیو انٹرٹینمنٹ پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے پروگرام پر پیمرا کی طرف سے تین دن کی بندش کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کی طرف سے حکم امتناعی جاری کرنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین پیمرا کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کو ایک ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے سپریم کورٹ میں لے جائیں۔

چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کمیٹی کو بتایا کہ اس پروگرام میں نہ صرف ایک عورت کی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش دکھائی گئی بلکہ حاضرین کو گالی دینے پر مجبور کیاگیا۔

اُنھوں نے کہا کہ شکایت کونسل نے شکایت کا جائزہ لینے اور شواہد کی روشنی میں اس پروگرام کو تین روز کے لیے بند کردیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس ضمن میں عدالت میں بھی شواہد پیش کیے گئے لیکن اس کے باوجود عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا۔

کمیٹی کے ارکان نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شواہد کے باوجود محض ایک پریس ریلیز پر حکم امتناعی جاری کیاگیا۔ کمیٹی کے رکن نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ریاست کے لیے عوام اہمیت کے حامل ہیں اور عدالت ریاست سے بالاتر نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کمیٹی کو بتایا کہ اس پروگرام میں نہ صرف ایک عورت کی پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش دکھائی گئی بلکہ حاضرین کو گالی نکالنے پر مجبور کیا گی

اُنھوں نے کہا کہ ’اگر ریاست کمزوری دکھائے گی تو لوگ سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیں گے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’ایسے پروگرام جن سے عوام کی دل آزاری ہوتی ہے اسے بند کردیا جائے اور اگر اس پر حکم امتناعی جاری کر بھی دیا جائے تو پھر بھی ایسے پروگراموں پر پاندی عائد کردی جائے۔‘

پیمرا کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’اظہار رائے کی آزادی پر پابندی عائد نہیں کرنا چاہتے لیکن اظہار رائے بھی آئین اور قانون کے دائرہ کار میں ہو‘۔

قائمہ کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ قادیانیت سے متعلق معاملہ بلا وجہ ٹی وی چینلز پر اچھالا جارہا ہے جس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے پر عوام میں انتشار پھلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کمیٹی کے چیئرمین کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں اس میں بیرونی ہاتھ ملوث تو نہیں ہے۔

سینیٹر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات صرف چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں اور اگر یہ معاملہ حل ہو جائے تو ایسے پروگرام نشر ہونا بند جائیں گے جس سے انشتار پھیلنے کا احتمال ہو۔

کمیٹی نے پیمرا کے حکام کو آئندہ اجلاس میں ٹی چینلز کے پروگراموں کی ریٹنگ کا نیا نظام لانے سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں