بلوچستان میں تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوٰی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سرکاری حکام نے فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔

فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے میڈیا کو فراہم کی جانے والی معلومات کے مطابق تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا واقعہ سریاب کے علاقے میں پیش آیا۔

٭ کوئٹہ میں سکیورٹی فورسز پھر نشانے پر، چار اہلکار ہلاک

٭ کوئٹہ میں پولیس پر حملے، چار اہلکار ہلاک

٭ بلوچستان: پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکار سمیت پانچ ہلاک

ترجمان نے بتایا کہ حساس اداروں اور ایف سی نے سریاب کے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جہاں بادینی کراس کے علاقے میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسند مارے گئے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد کا تعلق ایک مذہبی شدت پسند تنظیم سے تھا۔

ترجمان نے دعوی کیا کہ مارے جانے والے شدت پسند کوئٹہ میں ایف سی اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔

آزاد ذرائع سے ان افراد کے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت اور کسی شدت پسند تنظیم سے تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ یہ سرچ آپریشن فرنٹیئر کور کے ان چار اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کیا گیا جن کو گذشتہ روز ڈبل روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔

بلوچستان میں سرکاری حکام کی جانب سے رواں ماہ کے دوران مجموعی طور پر اس طرح کے مقابلوں میں 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔

ان میں سے پانچ افراد کو 13جون کو چشمہ اچوزئی کے علاقے میں پولیس مقابلے میں مارنے کا دعوی کیا گیا تھا تاہم ان کے بارے میں ایک شدت پسند تنظیم کا جو بیان آیا تھا اس کے مطابق یہ لوگ پہلے سے زیر حراست تھے ۔

اسی بارے میں