ڈی آئی خان: ٹارگٹ کلنگ میں ڈی ایس پی سمیت تین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نور محمد کوگذشتہ روز تھانہ چھاؤنی کی حدود میں خیر آباد کے علاقے میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کے تین مختلف واقعات میں ہلاک ہونے والے ڈی ایس پی اور پولیس اہلکار سمیت تینوں افراد کی تدفین سخت حفاطتی انتظامات میں کر دی گئی ہے۔

تینوں افراد کو گذشتہ روز نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نور محمد کوگذشتہ روز تھانہ چھاؤنی کی حدود میں خیر آباد کے علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ ڈی ایس پی نور محمد مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا تھا۔

انھیں جمعہ کو ڈیرہ اسماعیل خان شہر سے 35 کلومیٹر دور پنیالہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اس سے پہلے دوپہر کے وقت نامعلوم موٹر سائکل سواروں نے ایک پولیس سپاہی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ سپاہی شاہ زیب محسود مدینہ کالونی میں موجود تھے کہ اس دوران ان پر فائرنگ کی گئی۔

یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا تھا لیکن ان کی تدفین جمعہ کو کی گئی ہے۔ شاہ زیب محسود کے والدین کراچی میں تھے جہاں انھیں یہ اطلاع دی گئی۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ تیسرے واقعے میں ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے کمشنری بازار میں دودھ اور کھوئے کی دکان میں موجود ندیم حسین کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔

ندیم حسین کے بھائی جاوید حسین کو بھی چند سال پہلے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ نوجوان ندیم حسین کا تعلق اہل تشیع سے تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ایک ہی دن میں ٹارگٹ کلنگ کے اتنے واقعات پیش آئے ہوں۔ دو ماہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں علیحدہ علیحدہ واقعات میں چار وکلاء کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ چاروں وکلاء کا تعلق اہل تشیع سے بتایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ گذشتہ روز پشاور کے پچگی روڈ پر گاڑی کے قریب دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور سات افراد زخمی ہو گئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد سڑک کنارے نصب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں