خالد لانگو کے ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع

Image caption نیب حکام خالد لانگو کو بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لائے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے سابق مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو سمیت دو ملزمان کے خلاف درج بدعنوانی کے مقدمے میں ان کے ریمانڈ میں مزید 14روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔

خالد لانگو دوسری مرتبہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئے

یہ مقدمہ موجودہ حکومت کے دور میں محکمہ بلدیات کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر خورد برد کرنے کے حوالے سے قائم کیا گیا ہے۔

نیب نے خالد لانگو کو اس مقدمے میں 25 مئی کو گرفتار کیا تھا۔

گذشتہ ریمانڈ کے خاتمے پر نیب حکام خالد لانگو کو بکتر بند گاڑی میں احتساب عدالت لائے۔

نیب حکام نے احتساب عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ میر خالد لانگو کے مزید اکاؤنٹس کے بارے میں پتہ چلا ہے اس لیے وہ نیب کو مزید تحقیقات کے لیے مطلوب ہیں۔

انھوں نے خالد لانگو کے ریمانڈ میں مزید توسیع کی درخواست کی۔

خالد لانگو کے وکیل نے ان کے ریمانڈ میں توسیع کی مخالفت کی تاہم احتساب عدالت کے جج مجید ناصر نے نیب کی درخواست پر ان کے ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کر دی۔

نیب کی جانب سے اس مقدمے میں گرفتار ایک اور اہم ملزم سید سلیم شاہ کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا۔

نیب کی درخواست پر عدالت نے سلیم شاہ کے ریمانڈ میں بھی 14 یوم کی توسیع کی۔

اس مقدمے میں مجموعی طور پر اب تک سات ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جن میں میر خالد لانگو اور سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی بھی شامل ہیں۔

نیب نے اس مقدمے کے حوا لے سے اب تک سا بق سیکر یٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر اور ایک بیکری سے 65 کروڑ 75 لا کھ روپے برآمد کیے ہیں۔

اسی بارے میں