عمران خان کی بہن کی گاڑی کو ٹکر، مریم نواز کی تردید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں وی آئی پیز کو غیر معمولی سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بہن نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کے پروٹوکول سکواڈ میں شامل سکیورٹی اہلکاروں کی گاڑی نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری اور ہراساں کیا جبکہ مریم نواز نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ کی بہن ڈاکٹر عظمی خان کے مطابق یہ واقعہ لاہور کے علاقے گلبرگ میں اس وقت پیش آیا جب وہ جعمہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں جا رہی تھیں۔

دوسری طرف مریم نواز نے اس بات کی تردید کی اور واضح کیا کہ جس وقت کا یہ واقعہ بتایا جا رہا ہے وہ اس وقت اسلام آباد میں تھیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی اور یہ سوال اٹھایا کہ مریم نواز کس قانونی حیثیت میں حکومتی معاملات کو دیکھ رہی ہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عظمی خان نے واقعہ کی تفصیلات بتائی اور ان کے بقول سکواڈ میں شامل ایک گاڑی نے اس کو بیٹے کو سائیڈ پر گاڑی لگانے کا کہا اور سامنے سے آنے والی پروکوٹول سکواڈ میں شامل ایک اور گاڑی نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری۔

سی سی پی او لاہور امین وینس نے بی بی سی کو بتایا انھیں میڈیا کے ذریعے اس واقعے کی اطلاع ملی ہے اور وہ اس کی تحقیقات کریں گے لیکن انھوں نے واضح کیا کہ کوئی پولیس اہکار اس واقعے میں ملوث نہیں ہے۔

یہ واقعہ سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی عاصم گجر کے مکان کے قریب ہوا جہاں لوگ تعزیت کے لیے آ رہے تھے۔ عاصم گجر کے مطابق جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اُس وقت پاکستان کے زیر انتظام کشیمر کے صدر سردار یعقوب اُن کے گھر تعزیت کے لیے آئے تھے۔

عاصم گجر نے میڈیا کے سامنے اقرار کیا کہ عظمیٰ خان کے ساتھ بدسلوکی ان کے گھر کے سامنے ہوئی لیکن اس کے ذمہ دار نہ مریم نواز ہیں اور نہ فریال تالپور۔

’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے صدر سردار یعقوب ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے تھے۔ سردار یعقوب کے پروٹوکول کی گاڑیاں گھر میں داخل ہوئیں تو ان کے پیچھے ڈاکٹر عظمیٰ بھی آگئیں۔سردار یعقوب کے سکیورٹی گارڈز نے ڈاکٹر عظمٰی کی گاڑی کو روکا لیکن اس سے ان کی گاڑی کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے گارڈز سے جھگڑا بھی کیا لیکن ہم نے عظمیٰ خان سے معذرت بھی کی اور میرا بیٹا ان کو دروازے تک چھوڑنے بھی گیا اور نقصان پورا کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔‘

اسی بارے میں