کامیاب مرد کے پیچھے دو عورتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Edhi Foundation

کہتے ہیں ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن عبدالستار ایدھی کے پیچھے ایک نہیں بلکہ دو عورتوں کا ہاتھ تھا، جنھوں نے انھیں کامیاب ہی نہیں، عظیم ترین بنا دیا۔

ان میں سے پہلی عورت ان کی والدہ تھیں جنھوں نے انسانیت کی خدمت کو گھٹی میں ڈال کر ایدھی کو پلا دیا، اور دوسری ان کی درد آشنا اہلیہ، جو اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر خدمت کے مشن میں ایدھی کے شانہ بشانہ رہیں۔

دو پیسے جیب خرچ

ایدھی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو جہاں ان کی جدوجہد اور شخصیت کے اوصاف کُھلتے چلے جاتے ہیں وہیں جونا گڑھ کے قصبے ’بانٹوا‘ میں بیاہ کر آنے والی خاتون غربہ اور عبدالشکور ایدھی کا کردار بھی متاثر کرتا ہے جو ان کے والدین تھے۔

٭ ’دو فقیر مل گئے تو خدا نے بادشاہ بنا دیا‘

٭ ریاست کو ایدھی کی طرح کام کرنا چاہیے

ماں کا پہلا درس تھا کہ سکول جاتے وقت جیب خرچ کے طور پر ملنے والے دو پیسوں میں سے ایک پیسے پر ایدھی کا نہیں کسی دوسرے حاجت مند کا حق ہے۔

’دیکھو بیٹا غریبوں کو ستانا اچھی بات نہیں۔۔۔ ان کی ہر ممکن مدد کیا کرو۔۔۔ اوپر والے کو راضی کرنے کا ایک یہی طریقہ ہے۔‘

ماں ہی ان کی استاد تھیں اور ماں ہی ان کی دوست تھیں۔

اماں جب انھیں بانٹوا کے گرد کی غریب بستیوں میں ناداروں اور حاجت مندوں کی مشکلات معلوم کرنے کے لیے بھیجتیں اور پھر ان کے لیے کھانا اور ادویات پہنچانے کے لیے کہتیں تو اس مشق کے ذریعے انھیں مستقبل میں حقیقی ضرورت مندوں اور پیشہ ور گداگروں میں فرق کرنے کی تمیز آئی۔

والد کے کاروبار کی اچھی آمدن کے باوجود ایدھی کی والدہ گھر میں روئی کے بنڈل صاف کرتیں اور انھیں بھی کام شامل کرتیں اور ننھے ایدھی جب اسے بازار واپس لے کر جاتے تو بھیڑ میں آواز لگاتے ’راستہ دو، راستہ دو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EDHI FOUNDATION

سکول میں سب سے شرارتی بچے کے طور پر مشہور ایدھی اپنی والدہ کی خاموش سماجی خدمت کی سرگرمیوں میں ان کا دایاں بازو تھے۔

عام دنوں کے علاوہ رمضان اور عید کے دن ایدھی کا کام اور بڑھ جاتا۔ نہ صرف یہ بلکہ بانٹوا کے مخیر حضرات کو بھی معلوم تھا کہ ’ستارہ‘ نامی یہ بچہ ہی ان کی خیرات کو کم وقت میں مستحق افراد کی بستی تک لے جا سکتا ہے۔

بچپن میں پہلی لڑائی بھی ایدھی نے اپنے لیے نہیں ایک ایسے ذہنی معذور بچے کے لیے لڑی جسے لڑکے تکلیف دے کر محظوظ ہو رہے تھے اور والدہ نے زخموں سے چور ایدھی کو اس بچے کی مدد کرنے پر شاباش دی۔

’شیخ چلی‘

11 برس کی عمر میں تعلیم کو خیرباد کہہ کر ایدھی نے ایک کپڑے کی دکان پر ملازمت کر لی۔

کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والے ایدھی کو پیسہ جمع کرنے کا شوق تو تھا لیکن وہ کاروبار نہیں بلکہ مفلسوں کی مدد کے خواب دیکھتے تھے۔ ان کے دوست انھیں شیخ چلی کہتے تھے لیکن ایدھی کان صرف والدہ کی نصیحت پر ہی دھرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Edhi Foundation

والدہ کی گرتی صحت کے دوران جب ایدھی انھیں ہسپتال لے جانے کے مشکل مرحلے سے گزرے تو انھیں معلوم ہوا کہ پورے کراچی میں صرف ایک ریڈکراس کی ایمبولینس ہے اور آگے بڑھ کر شاید یہی مشاہدات انھیں سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کی لگن کی جانب مائل کرنے میں کام آئے۔

پھر جب والدہ پر فالج کا حملہ ہوا تو ایدھی نے والدہ کی خدمت کے لیے خود کو وقف کیا اور جب وہ کچھ عرصے بستر علالت پر رہنے کے بعد دنیا سے چلی گئیں تو ایدھی کے بقول ’ماں نے جانے سے پہلے میرے دل میں تڑپ پیدا کر دی تھی کہ جس طرح میں نے ان کی خدمت کی ہے ویسی ہی خدمت انسانیت کے لیے کروں۔

’انھوں نے خیرات کے تصور کے احترام میں شاید مجھے تمام انسانوں کی خدمت کرتے رہنے کی وصیت کر دی تھی۔ اب میرے پاس لوٹ جانے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔‘

صرف ملیشیا کا جوڑا

ماں کے بعد ایدھی نے گھر کو چھوڑ دیا اور والد نے بخوشی انسانیت کی مدد کے لیے آگے بڑھنے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔

انھوں نے اپنی ماں کی وفات کے بعد ان کی واحد نشانی ان کے ہاتھ سے سلے دو سرخ اور سبز کرتے بھی ایک گداگر کے حوالے کر دیے کیونکہ اب انھوں نے عمر بھر ملیشیا اور سلیٹی رنگ کا جوڑا پہننے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

آنے والے برس ملک کے سیاسی میدان میں تبدیلیاں لاتے رہے مگر ایدھی نے کام جاری رکھا اور کبھی حکمرانوں سے مدد نہیں لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Edhi Foundation

1962 میں نتائج کی پروا کیے بغیر بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب ہوئے لیکن بعد میں اپنے اس فیصلے یعنی سیاست میں شامل ہو کر سماجی نظام کی بہتری کی کوشش کو غلطی قرار دیا اور کہا کہ کرپشن کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں۔

بلقیس نامی لڑکی

ماں کا مشن ایدھی کی ڈسپینسری کے ذریعے جاری تھا کہ ایدھی کی ڈسپینسری میں سنہ 1965 میں ایک لڑکی کام سیکھنے کے لیے آئی جس کا نام بلقیس تھا۔

ایدھی کا خیال تھا کہ وہ کام سیکھنے کے لیے کم عمر اور غیر سنجیدہ تھی لیکن آنے والے وقت میں بلقیس نے ثابت کیا کہ وہ کام میں ہوشیار اور عملے کی اچھی معاونین میں سے ہے۔

جب ایدھی نے بلقیس کے ہاں شادی کا پیغام بھجوایا تو یہ وہ وقت تھا جب انھیں کئی خاندان یہ کہہ کر ٹھکرا چکے تھے کہ وہ کنجوس ہیں، ان کے پاس رہنے کا ٹھکانہ اور بیوی کے لیے محفوظ مستقبل کی ضمانت نہیں ہے۔

اور پھر ایدھی کی ماں نے جہاں اپنے بیٹے کو مدد کا خواب دیکھنے کی ہمت فراہم کی تھی وہیں بلقیس نے ان خوابوں کی تعبیر کے حصول میں ایدھی کی معاونت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EDHI FOUNDATION

بلقیس جب مسز ایدھی بنیں تو ان کی آنکھوں میں بھی وہی خواب تھے جو ہر لڑکی کے ہوتے ہیں لیکن کام کی مصروفیت کی بنا پر جب ایدھی اپنی شادی کی رسموں میں بھی بھرپور طریق سے شرکت نہ کر پائے تو بلقیس ایدھی نے کوئی شکوہ نہ کیا اور جب شادی کے فوراً بعد کام پر دوبارہ آنے لگیں تو لوگوں کی تنقید کے جواب میں کہا ’میں ابتدا سے ہی اپنے شوہر کے طرز زندگی پر عمل پیرا ہونا چاہتی ہوں۔مجھے ایدھی اور اس کے مشن سے یکساں محبت ہے۔‘

درد آشنا

بقول ایدھی’حقیقت تو یہ ہے کہ بلقیس سماجی مشن اور نصب العین کے بارے میں کبھی بھی غیر سنجیدہ نہ تھیں۔ وہ سب جانتی تھیں لیکن اس نے اپنی زندہ دلی کے باعث ساری گرانباریوں کو خوش گوار بنا دیا تھا تاکہ کام کاج کے دوران مزاح کا پہلو برقرار رہے۔‘

بلقیس ایدھی میٹرنٹی ہوم تک محدود نہ رہیں اور فاؤنڈیشن کے ہر شعبے کی ترقی کے لیے انھوں نے ایک بہترین معاون کے طور پر ایدھی کا بھرپور ساتھ دیا۔

وہ ایدھی اور بچوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ادارے کی نگرانی کے فرائض ادا کرتی رہیں۔ تب بھی جب ایدھی کو موت کی دھمکیاں ملیں یا پھر جب سنہ 1990 کی دہائی میں ایدھی کو مجبوراً عارضی طور پر ملک سے باہر رہنا پڑا تھا۔

ایدھی کہتے تھے کہ انھیں ایک اچھی بیوی ملی لیکن وہ اپنے مقصد کی وجہ سے انھیں زیادہ وقت نہیں دے سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EDHI FOUNDATION

’میں جانتا تھا کہ ایک غمگسار عورت نے جن عذابوں کی زندگی کو اپنے سینے سے لگائے رکھا وہ بےحد اور بےحساب تھے جنھیں اس نے کبھی بیوی، کبھی ماں کبھی ایدھی فاؤنڈیشن کی درد آشنا کے روپ میں جھیلا۔۔۔ لیکن کام کی مصروفیت کے باعث شاید میں اس کے دکھ بانٹنے کے لیے مناسب وقت نہ دے سکا۔‘

بلقیس اور ایدھی نے برسوں پہلے یہ طے کر لیا تھا کہ ان کی آخری آرام گاہ ایدھی ویلج میں ہو گی۔

ایدھی کو پوری امید تھی کہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے اہل خانہ ان کا مشن آگے بڑھانے کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے لیکن چھ دہائیوں میں جس چیز نے انھیں ہر پل مایوس کیا وہ ہر دورِ حکومت میں ریاست کو عوامی فلاح کے اصولوں میں ڈھالنے کے لیے تیار نہ ہونا ہی تھی۔

اسی بارے میں