’ریاست کو ایدھی کی طرح کام کرنا چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کی صحت کے بارے میں خبروں اور جمعے کی شام فیصل ایدھی کی پریس کانفرنس کے بعد اُن کی زندگی کی دعاؤں کے ساتھ سوشل میڈیا اُن کے انتقال کی خبر کے لیے ذہنی طور پر جیسے تیار تھا۔

مگر شام ڈھلتے ہیں انتقال کی خبر کو غیر یقینی سے لیا گیا حتیٰ کے فیصل ایدھی نے ٹی چینلز پر آ کر اس بات کی تصدیق کی۔

اس بیان نے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو اُس شرمندگی سے بچایا جس سے اسے چند دن قبل دوچار ہونا پڑا جب وزارتِ خارجہ نے ایدھی صاحب کی وفات کی افواہ پر پورا پریس ریلیز جاری کر کے واپس لیا تاہم آج وزارتِ خارجہ کی جانب سے مکمل خاموشی ہے۔

دوسری جانب اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر ایدھی اور سلام ایدھی صفِ اول کے ٹرینڈز ہیں جن میں سب لوگ اُن کے انتقال پر اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا بری طرح منقسم سوشل میڈیا اُن کے بارے میں محبت، عقیدت اور تحسین کے جذبات میں متحد ہے جو اپنی ذات میں ایک بہت بڑی بات ہے جو میں نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر نہیں دیکھا۔

رانا شاہزیب نے لکھا ’کچھ لوگوں کو اس بات کے لیے نوبل انعام کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کے کسی ایک حصے میں شناخت کیے جا سکیں کہ وہ ایک اعلیٰ اور بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔‘

فراز نے لکھا کہ ’خیرات دینا بہت آسان ہے مگر اپنی زندگی کا ہر ایک لمحہ دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کر دینا درحقیقت عظمت ہے۔‘

مائیکل کوگلمین نے لکھا ’ایدھی نے اپنے ہر دن میں اتنے خیرات کے کام کیے جتنے ہم نے اپنی پوری زندگی میں کیے ہوں گے۔ اس قسم کی دریا دلی کو بیان ہی نہیں کیا جا سکتا نہ ہی بھلایا جا سکتا ہے۔‘

حسن منصور نے ایدھی صاحب کی وفات پر لکھا ’ایدھی یقیناً کہیں کسی کی مدد کرنے گئے ہوں گے۔ وہ کسی اور کام سے کہیں جا ہی نہیں سکتے۔‘

عالیہ چغتائی نے لکھا کہ ’میں تصور نہیں کر سکتی وہ نظارہ کہ ایدھی صاحب کی میت انھی کی ایمبولینس میں رکھی جائے گی۔‘

سمیع چوہدری نے لکھا ’سرکاری سطح پر ایدھی کے جنازے سے زیادہ سرکار کو ایدھی سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایدھی نے وہ کیا جو ریاست کا کام تھا۔ ریاست کو ایدھی کی طرح کام کرنا چاہیے۔‘

مزید لکھا ’ان کے بارے میں یہ مت کہیے کہ وہ امن میں رہیں۔ انھیں امن میں رہنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ خود مجسم امن تھے۔‘

ندیم فاروق پراچہ نے لکھا ’ایدھی کی جنگ تعصب کے خلاف تھی، ظلم کے خلاف، فتووں اور حرص کے بغیر۔ انسانیت کے لیے انسانیت بس۔‘

فریحہ عزیز نے لکھا ’ایدھی صاحب نے انسانیت کے بارہ میں متزلزل ہوتے ہوئے ایمان کو سہارا دیے رکھا۔ اس شہر کراچی اور اس ملک کے بارے میں جو بھی اچھا ہے اس کا مجسم نمونہ تھے وہ۔‘

اور سالک صدیقی نے سمندر کو کوزے میں یوں بند کیا۔۔۔

کتنے قطروں کو سمندر کر گیا

کام پورا کر کے اپنے گھر گیا

تاقیامت وہ رہے گا جاوداں

کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

اسی بارے میں