ایدھی نے الیکشن لڑا اور جیتے

ویسے تو عبدالستار ایدھی کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ وہ سیاست سے ہمیشہ دور رہے ہیں اور باضابطہ طور پر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی۔

لیکن ایسا نہیں ہے وہ مختلف مواقع میں کسی نہ کسی حیثیت سے سیاست میں حصہ لیتے رہے ہیں، جلد انھیں اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ اصل خدمت سیاست سے الگ رہ کر ہی کی جا سکتی ہے۔

الیکشن میں حصہ

ایدھی کی مستند سوانحِ حیات ’کھلی کتاب‘ کے مطابق ایدھی نے 50 کی دہائی میں سماجی خدمت شروع کر دی تھی، تاہم عوام میں سماجی بہبود کا شعور اجاگر کرنے اور فلاحی ریاست کے قیام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انھوں نے سنہ 1962 میں بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب بھی ہوئے۔

جب صدر ایوب نے مادر ملت فاطمہ جناح کے خلاف انتخابات جیتنے کا جشن منایا تو ایدھی نے اس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا۔

1970 میں جب بھٹو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر میدان میں اترے تو ایدھی نے بھی الیکشن میں قسمت آزمائی کی، لیکن ان کی سادگی اور صداقت کا پرچار لوگوں کو متوجہ نہ کر سکا اور وہ ہار گئے۔

’جب ساتھی کرپٹ ہوں‘

ایدھی نے اعتراف کیا کہ سیاسی مہم جوئی ان کی غلطی تھی کیونکہ حکومت کے قریب رہ کر سماجی بہبود کا فروغ، نظام میں رہتے ہوئے نظام کی تبدیلی اور بیداری کی تحریک یہ سارے کام قابل قدر سہی لیکن ساتھی کرپٹ ہوں تو پھر یہ ایک خواب ہی ہے۔‘

ضیاالحق کی جانب سے دیا گیا پانچ لاکھ کا چیک ایدھی نے یہ کہہ کر واپس ک دیا کہ لوگوں میں خیرات دینے کا شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں، سرکاری گرانٹ قبول نہیں کر سکتا۔

فقیر کی بو

1982 میں جنرل ضیا الحق نے جب سماجی بہبود کے لیے ایدھی کو اپنی مجلس شوریٰ کا رکن بننے کا کہا تو ایدھی نے لیت و لعل سے کام لیا کہ ’آپ کی موقر اسمبلی کے بڑے بڑے لوگ ایک فقیر کی بو کو اپنے قریب بیٹھے ہوئے کیسے سہیں گے؟‘ لیکن پھر فوجی صدر کی درخواست پر وہ شوریٰ میں شامل ہو ہی گئے۔

شوریٰ میں شمولیت سے ایدھی کو حکمراں کے سلطنت کو چلانے کے امور کو بغور دیکھنے کا موقع ملا۔ لیکن شوری میں ایدھی کو ایک جذباتی شخص قرار دیا جو کہ ’تعلیم کی کمی کے سبب ملکی اور بین الاقوامی امور کا ادراک نہیں رکھتا تھا۔‘

ایدھی نے شوریٰ چھوڑ دی مگر جنرل ضیا الحق کو خبردار ضرور کیا کہ نسلی اور لسانی اختلافات اور مہاجرین اور مقامی افراد کے درمیان اختلافات کا لاوا پھٹنے کو ہے لیکن اس زہر کا تدارک کسی نے نہ کیا اور ایدھی لاشیں اٹھاتے رہے۔

پریشر گروپ

90 کی دہائی میں بظاہر ملک جموریت کی راہ پر گامزن تھا لیکن ایدھی کو خاموشی سے بیرون ملک جانا پڑا۔ اس کی وجہ مبینہ طور پر فوج اور ایجنسیوں کی جانب سے پریشر گروپ میں شمولیت کا تقاضا تھا۔

ایدھی کی سوانحِ حیات کے مطابق 1993 میں چند فوجی افسروں نے ایدھی سے رابطہ کر کے کہا کہ ’ایدھی صاحب ہمیں آپ کی ضرورت ہے، آپ قوم کو متحد رکھنے کے لیے آواز اٹھائیں، لوگ اپ کی آواز پر لبیک کہیں گے اور آپ کی عملی قربانیوں کے باعث آپ پر اعتماد کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بے حد اصرار پر ایدھی 14 اگست کو مزارِ قائد پر تقریر پر تو آمادہ ہو گئے لیکن اُن کی من پسند تقریر نہ کر سکے۔

ایدھی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’اگر قائد زندہ ہوتے تو حیران ہوتے کہ ان کی محنت کا یہ کیا ثمر ہے۔‘

اگلے ہی برس لندن میں ایدھی کو پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی سیاسی سطح پر بننے والے پریشر گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی۔

لیکن ایدھی نے انھیں نصحیت کر ڈالی کہ ’آپ جذباتی نہ ہوں، ہم کچھ تبدیل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ سوائے اس کے کہ اپنے سماجی نصب العین کی تکمیل کریں۔ ہمیں اپنے فرائص پر توجہ دینی چاہیے پریشر ڈالنے کا اس سے کوئی بہتر طریقہ نہیں۔‘

ملک واپس لوٹے تو جنرل حمید گل نے بھی وہی تقاضا کیا ’کہ ملک کو بچانے کے لیے ہمیں آگے آنا ہو گا۔‘ لیکن ایدھی ملک کو کسی سازش کے ذریعے تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا حصہ بننے سے ہمیشہ انکار کرتے رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

آخری حربہ انھیں ہفت روزہ تکبیر کے ایڈیٹر کے قتل میں ملوث کرنے کی کوشش کی صورت میں ڈھونڈا گیا۔

اس سے ایدھی اس قدر پریشان ہوئے کہ ملک چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر ایدھی نے پریس کانفرنس کی اور ایک دستاویز بھی تیار کی کہ اگر وہ قتل ہو جائیں تو اسے عام کیا جائے تاکہ وہ سازش بے نقاب ہو سکے جس کا حصہ بننے سے انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

تاہم بعد میں وہ صدر لغاری کی درخواست پر وطن لوٹ آئے اور اسی کام میں مصروف ہو گئے جو انھیں آتا تھا یعنی سماجی فلاح۔

وہ پریشر گروپ بھی مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گیا لیکن ایدھی تا دمِ مرگ سر جھکائے اپنا کام کرتے رہے۔

انھیں اپنے والد عبدالشکور کی نصیت یاد تھی: ’مخالفین کو نظر انداز کرو اور اپنی مہم جاری رکھو۔‘

اسی بارے میں