پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ALI AFZAL AFZAL
Image caption حامد حسین طوری کا شمار پارہ چنار کے اہم سیاسی اور سماجی رہنماؤں میں ہوتا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر اور سماجی رہنما حامد طوری کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے فلیٹ میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کرم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ قتل کا یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیان شب کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی فاٹا کے صدر اور سماجی رہنما حامد حسین طوری کو گذشتہ رات کسی کی کال موصول ہوئی تھی، جس پر وہ گاؤں شبلان سے پارہ چنار شہر میں واقع اپنے فلیٹ آگئے تھے۔

ان کے مطابق صبح جب پیپلز پارٹی کے کارکن ان کے فلیٹ پہنچے تو وہاں وہ اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ حامد طوری کے جسم پر تشدد کے نشان بھی تھے اور انھیں سر میں گولی ماری گئی ہے جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔

مقتول کے کمرے سے ٹی ٹی پستول کا ایک خول بھی برآمد ہوا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس واقعے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی کسی تنظیم کی طرف سے تاحال اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

حامد حسین طوری کا شمار پارہ چنار کے اہم سیاسی اور سماجی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

وہ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے 37 سے قومی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ تاہم بعد ازاں وہ ایئر مارشل ریٹائرڈ سید قیصر حسین شاہ کے حق میں دست بردار ہوگئے تھے۔

کرم ایجنسی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پیپلز یوتھ آرگنائزیشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور طوری بنگش قبائل نے حامد حسین طوری کی قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی رہنما اور حکومت حامی قبائلی مشران ایک عرصے سے شدت پسندوں کے حملوں کی زد میں رہے ہیں۔

تاہم فاٹا میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آنے کے باوجود ہدف بنا کر قتل کے واقعات پر قابو پایا نہیں جاسکا ہے۔

اسی بارے میں