بارہ شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق

تصویر کے کاپی رائٹ APP

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے 12 شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں کی طرف سے دی جانے والے سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جن 12 مجرموں کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی ہے وہ شدت پسندی، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ کرنے کے علاوہ تعلیمی اداروں اور مواصلاتی نظام کو تباہ کرنے کے مقدمات میں ملوث تھے۔

٭ ’انسانی حقوق کے اہلکاروں کو فوجی عدالتوں میں بیٹھنے دیں‘

٭ سویلین پر فوجی عدالتوں میں مقدمات نہ چلائیں: آئی سی جے

آئی ایس پی آر کے مطابق ان مجرموں میں عبدالقیوم باچا بھی شامل ہیں جو سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کو ذبح کرنے کے علاوہ لڑکیوں کے پرائمری سکولوں اور بنیادی ہیلتھ یونٹ کو تباہ کرنے کے مقدمات میں ملوث تھے۔

بیان کے مطابق مجرم نے میجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف بھی کیا ہے جس کی بنا پر اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

محمد آصف، شہادت حسین اور یاسین کے بارے میں آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ مجرمان کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سرگرم رکن تھے اور عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے مقدمات میں ملوث تھے۔

محمد طیب، سعد اکبر اور محمد ایاز کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مجرمان مسلح افواج کے جوانوں اور عام شہریوں کو مختلف حملوں میں قتل کرنے کے واقعات میں ملوث تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MIZAN
Image caption ان 12 مجرموں کو فوجی عدالتوں سے موت کی سزا سنائی گئی تھی

ان مجرموں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان کے سرگرم رکن تھے۔

ان کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے برکت علی، عزیز الرحمن، حسن ڈار، اسحاق اور بہرام شیر کے بارے میں بتایا کہ وہ بھی مسلح افواج کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ شدت پسندی کے دیگر واقعات میں ملوث تھے۔

واضح رہے کہ شدت پسندی کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں نے ڈیڑھ سو سے زائد مجرموں کو موت کی سزا سنائی ہے جبکہ ان میں سے متعدد مجرموں نے اس سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ان مجرموں کی سزاوں پر ان درخواستوں کے فیصلے آنے تک عمل درآمد روک دیا ہے۔

فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرموں کے رشتہ داروں کا موقف ہے کہ اُنھیں نہ تو مرضی کا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اُنھیں ان عدالتی فیصلوں کی نقول فراہم کی جا رہی ہیں۔

اسی بارے میں