مصباح کے ڈنڈ اور قومی کردار

تصویر کے کاپی رائٹ

زندگی میں کرکٹ کم کم دیکھی ہے لیکن جب قوم کو بخار چڑھتا ہے تو میں بھی کنکھیوں سے ٹی وی پر سکور دیکھتا رہتا ہوں۔ پاکستان کے نوجوان کپتان مصباح الحق کو لارڈز ٹیسٹ میں سنچری بنا کر ڈنڈ لگاتے دیکھا تو دِل سے بے ساختہ نکلا سبحان اللہ۔ پھر اچھے مسلمان کی طرح یہ پریشانی ہوئی کہ بھائی تو نے لارڈز پر اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری بنائی تو سجدہ کیوں نہیں کیا۔

اِس سوال کے ذہن میں آتے ہی پاکستان کے ایک سابق اور بدنام زمانہ کپتان سلمان بٹ یاد آئے۔ یہ نہیں پتہ کہ وہ ہمارے دُشمنوں کی سازش کا نشانہ بنے یا اُن کی ایچی سن کالج کی تعلیم و تربیت لے ڈوبی۔ لیکن میں نے اُنھیں اُن کی کپتانی کے زمانے میں ایک دفعہ قذافی سٹیڈیم میں ایک ٹیسٹ میچ کے دوران بیٹنگ کرتے دیکھا تھا۔

سٹیڈیم کا میچ ویسا نہیں ہوتا جیسا ٹی وی پر ہوتا ہے۔ نہ ایکشن ری پلے ، نہ سلوموشن۔ ایک دوست کے پاس ایک دوربین تھی اُس نے مجھے تھمائی اور میں سلمان بٹ کو بہت قریب سے دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنی کریز پر بال کا اِنتظار کرتے ہوئے کچھ بڑبڑا رہے ہیں۔ میں نے پورے اوور تک اُن کا بغور جائزہ لیا اور دیکھا کہ ہو یہ رہا تھا کہ جیسے ہی بالر بال کرانے کے لیے بھاگتا بٹ صاحب درور شریف کا وِرد کرنا شروع کر دیتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

مجھے یقین ہے کہ دُنیا کہ تمام بڑے کھلاڑی اپنے اپنے عقیدے اور مزاج کے مطابق کِسی بڑے مقابلے سے پہلے اور بعد اپنے اپنے خدا کو یاد کرتے ہوں گے۔لیکن کریز پر کھڑے کپتان کو درود شریف کا وِرد کرتے دیکھ کر مجھے سمجھ نہیں آیا کہ یہ کپتان بٹ کے مضبوط ایمان کی نشانی ہے یا بیٹنگ کی کمزوری کی۔ یہ تو کئی سال بعد سمجھ آیا کہ کوئی اور مسئلہ نہیں تھا بس بٹ صاحب کا کریکٹر کچھ ڈھیلا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کی کرکٹ میں دو طرح کے رُجحانات ساتھ ساتھ آئے پاکستان کا ڈریسنگ روم ایک طرف تو عبادت گاہ بنتا گیا لیکن اِس کے ساتھ ساتھ جوا خانہ بھی۔ یہ کیسے ہوا کہ وُہ ٹیم جو پچ پر باجماعت نماز پڑھتی تھی، جس کے کھلاڑی تبلیغی دورے کرتے تھے اُسی ٹیم میں شامل کھلاڑی چند سکوں کے عوض اپنا ملک، اپنی ٹیم اور سب سے بڑھ کر اُنھیں پوجنے والے کرکٹ کے پرستاروں کو بھی بیچ دیتے تھے۔ کہا جا سکتا ہے کہ ٹیم بھی اِسی قوم سے نکلی ہے۔ جس میں جمعے کے اجتماع بڑھتے جائیں اور چوری چکاری بھی، جہاں لگژری عمرے بھی عام ہوں اور دھواں دار منافع خوری بھی۔ درود و سلام کی محفلیں بھی عام ہوں اور رشوت کے بغیر کام بھی نہ چلے وہاں قومی کرکٹ ٹیم قوم سے مختلف کیسے ہو گی؟

لیکن کرکٹ ٹیم کرکٹ کھیلنے کے لیے چنی جاتی ہے نفل پڑھنے کے لیے نہیں۔ کسی مبلغ کپتان نے اُنھیں یہ کیوں نہ بتایا کہ جِس طرح مسجد میں پریکٹس کے لیے نیٹ لگانا درست نہیں اِسی طرح گراؤنڈ میں نیٹ پریکٹس کے دوران کیمروں کے سامنے نمازیں پڑھنے سے بخشش کے امکانات بڑھ نہیں جائیں گے۔ کِسی دلدار مولوی نے یہ کیوں نہیں سمجھایا کہ بھائی لوگوں آخرت میں باقی اِنسانوں کی طرح آپ کے بھی دھندے کا حساب ہوگا۔ کرکٹروں سے عبادات کے حساب سے پہلے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کِتنے کیچ چھوڑے کِسی ساتھی کو ناجائز رن آؤٹ تو نہیں کروایا۔

سنچری بنانے پر بڑی وکٹ لینے پر اللہ کا شکر ادا کرنا ایک قدرتی بات ہے لیکن کئی حالیہ میچوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ کئی کھلاڑی ایک مصیبت بھری نصف سنچری بنا کر بھی سر بسجود ہو جاتے ہیں۔ جِس سے لگتا ہے کہ اُنھیں اپنے سے تو کچھ زیادہ اُمید نہیں لیکن خدا سے بھی کچھ زیادہ توقع نہیں۔ نصف سنچری والے سجدے کے بعد اگلے ہی بال پر جب اُنہیں آؤٹ ہوتے دیکھتا ہوں تو نجانے کیوں علامہ اقبال کا وہ مصرع یاد آتا ہے۔

تو ناداں گر گیا سجدے میں جب وقت قیام آیا

تصویر کے کاپی رائٹ

کرکٹ کے شیدائی جانتے ہیں کہ تمام نوافل اور تمام سجدوں کے بعد کیچ خود ہی پکڑنا پڑتا ہے ، اگر جان مار کے بھاگو گے نہیں تو بال باؤنڈری پار کر جائے گی۔

مصباح نے لارڈز کے میدان میں ڈنڈ لگا کر قوم کو یہ سیدھا سا پیغام دیا ہے کہ کرکٹ جسمانی فٹنس کا کھیل ہے جو ڈنڈ لگانے سے آتی ہے نفلی سجدوں سے نہیں۔ کھیل ختم ہونے کے بعد دِل کرے تو اپنے اپنے عقیدے اور مزاج کا شبینہ کریں لیکن کرکٹ کے میدانوں میں کرکٹ کی عبادت ہی اچھی لگتی ہے۔

اسی بارے میں