قندیل بلوچ کا قتل، پنجاب اسمبلی میں بحث کا مطالبہ

سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والی پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کے قتل پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں بحث کے لیے تحریکِ التوا جمع کروائی گئی ہے۔

یہ تحریک حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکنِ اسمبلی حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔

٭ قندیل بلوچ کا قاتل گرفتار، ملزم کا اعتراف جرم

٭ ’قندیل مردوں اور مولویوں کےلیے خطرہ تھیں‘

حنا پرویز بٹ نے ٹوئٹر پر اپنی اس تحریک التوا کے متن کی تصویر بھی شیئر کی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس تحریکِ التوا میں کہا گیا ہے کہ قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا اور یہ قتل حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

حنا بٹ نے اپنی تحریک میں یہ بھی کہا ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ میں قندیل بلوچ کی موت کے اسباب جاننے کے لیے بحث ہو رہی ہے جبکہ ملک میں ان کے قتل پر غیر سرکاری تنظیمیں اور سول سوسائٹی احتجاج کر رہی ہے۔

رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اس تحریک التوا کو باضابطہ قرار دیا جائے اور ایوان میں بحث کے لیے منظور کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزم وسیم کا کہنا ہے کہ اسے اپنے اس اقدام پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ قندیل کی وجہ سے ان کے خاندان کی بدنامی ہو رہی تھی

پاکستان میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے ممکنہ سدباب کے لیے قانون سازی سے متعلق پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کے نمائندوں کا اجلاس رواں ہفتے ہی طلب کیا گیا ہے جس میں اس بارے میں قانون سازی کے بارے میں غور کیا جائے گا۔

پاکستان کا ایوان بالا اور پنجاب اسمبلی غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کو روکنے کے لیے قانون سازی سے متعلق ایک متفقہ قرارداد پہلے ہی منظور کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ قندیل بلوچ کو جمعے کی شب ملتان میں ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا تھا اور انھیں اتوار کو ڈیرہ غازی خان میں ان کے آبائی گاؤں شاہ صدرالدین میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کے والد نے مقدمے میں اپنے دو بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا ہے اور پولیس نے سنیچر کی شب قندیل کے قتل کے مرکزی ملزم وسیم کو ڈیرہ غازی خان سے گرفتار کیا تھا جنھیں اتوار کو ملتان کے ایک علاقائی مجسٹریٹ نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

وسیم کو گرفتاری کے بعد میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا اور اس موقع پر اعترافِ جرم کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا انھیں اپنے اس اقدام پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ قندیل کے اقدامات کی وجہ سے ان کے خاندان کی بدنامی ہو رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قندیل بلوچ کے والد نے اپنی بیٹی کے قتل کے مقدمے میں اپنے دو بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا ہے

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ ایس پی سیف اللہ خٹک نے پیر کو بی بی سی اردو کو بتایا کہ مقدمے میں نامزد دوسرے ملزم نائب صوبیدار اسلم شاہین کے اس قتل میں ملوث ہونے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں تاہم تاحال ان کی اس واقعے میں ملوث ہونے سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرکزی ملزم وسیم نے اپنے اعترافِ جرم میں بھی یہی کہا ہے کہ یہ اس کا انفرادی فعل تھا اور اس نے دورانِ تفتیش اپنے بھائی کے اس قتل میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار صبا اعتزاز کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کے ذرائع کے مطابق اس مقدمے کی تفتیش کے دوران ہر اس فرد سے پوچھ گچھ کی جائے گی جن کے ساتھ قندیل بلوچ کا اٹھنا بیٹھنا تھا اور ان میں مذہبی عالم مفتی عبدالقوی بھی شامل ہیں۔

خیال رہے کہ مفتی عبدالقوی اور قندیل بلوچ کی کچھ تصاویر چند ہفتے قبل سامنے آئی تھیں اور یہ معاملہ میڈیا میں گرم رہا تھا۔

اسی بارے میں