کراچی کے نامزد میئر سمیت چار سیاسی رہنما گرفتار

Image caption رکن قومی اسمبلی وسیم اختر کراچی میں ایم کیو ایم کے میئر کے لیے نامزد امیدوار ہیں

کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے علاج میں معاونت کے مقدمے میں ضمانت کی منسوخی کے بعد ایم کیو ایم کے رہنماؤں وسیم اختر اور رؤف صدیقی اور پاک سر زمین پارٹی کے انیس قائم خانی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

* کراچی کے نامزد میئر سمیت پانچ کے وارنٹ جاری

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ان تینوں رہنماؤں کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل کی عبوری ضمانت بھی منسوخ کی تھی تاہم وہ عدالتی احاطے سے فرار ہونے میں کامیاب رہے جس کے بعد عدالت نے انھیں گرفتار کرنے اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

تاہم بعد میں عدالت کے حکم اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کی جانب سے پولیس کو گرفتاری کی ہدایت کے بعد عبدالقادر پٹیل نے بوٹ بیسن تھانے پر پہنچ کرگرفتاری پیش کردی۔

اس موقعے پر عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ وہ تھوڑا تاخیر سے پہنچے تھے اور عدالت کا دروازہ بن ہو چکا تھا، انھیں بتایا گیا کہ ضمانت منسوخ ہوچکی ہے اب انھیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد وہ ایک دوست سے مشورہ کرنے گئے تھے، فرار نہیں ہوئے تھے۔

عبدالقادر پٹیل کے وکیل عبدالقادر مندوخیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت سے دوبارہ شنوائی کی اپیل کی تھی اس لیے انھیں امید تھی کہ یا تو آج دوبارہ سنوائی ہوگی یا اس کو تھوڑا کلیئر کریں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کیس جعلی رسیدوں پر بنا ہوا ہے۔ ہسپتال کی ہارڈ ڈسک کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور کمپیوٹر کا پورا سسٹم اٹھا کر اصل مریضوں کے نام مٹا کر لیاری گینگ وار یا کسی اور دہشت گرد کا نام لکھ کر پرنٹ آؤٹ لیے گئے ہیں۔‘

عبدالقادر مندوخیل نے کہا کہ ’اس کو ہم نے پہلے بھی چیلنچ کیا تھا کہ یہ رسیدیں جعلی ہیں اور ان کی فارنسک کرائی جائے۔ اس کیس کے تفتیشی افسر (ایس ایس پی) نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی ہے کہ ان تمام ملزمان کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے لیکن انسداد دشہت گردی کی عدالتوں کے انتظامی جج ہائی کورٹ کے جسٹس کی حیثیت مجسٹریٹ کی ہوتی ہے انھوں نے اسے مسترد کیا ہے۔‘

’ہمارا موقف یہ ہے کہ اس ضمانت کو مسترد کرنے کے بعد ان ملزمان کو چالان کر رہیں ہیں تو ان کے خلاف ثبوت کہاں سے آئے گا، ثبوت تو وہی ہے جو پولیس نے دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انھیں یقین تھا کہ ضمانت کی درخواست قبول ہو جائے گی کیوں کہ اس کیس کو سیاسی انتقام کے لیے اور سیاسی رہنماؤں کو حراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جج خالدہ یاسین کی جانب سے مقدمے میں ضمانتیں منسوخ ہونے کے بعد شہر کے نامزد میئر وسیم اختر کے علاوہ راؤف صدیقی اور انیس قائم خانی کو پولیس اہلکاروں نے کمرہ عدالت میں ہی روک لیا تھا۔

وسیم اختر نے ایک نجی چینل کو بتایا ہے کہ وہ منگل کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے خاص طور پر لندن سے کراچی آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر عاصم جانتے ہوئے بھی خلاف قانون ملزمان کا رعایتی علاج معالجہ کیا

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی کی عدالت کی جج نے فیصلہ سنانے سے پہلے جو ریمارکس دیے اس میں کہا گیا کہ جی آئی ٹی میں کچھ ایسی چیزیں لکھی ہوئی ہیں کہ مجھے مجبوراً اسے قبول کرنا پڑ رہا ہے۔

وسیم اختر نے مزید کہا کہ یہ جھوٹی جی آئی ٹی ہے جسے یہ جج صاحبان پہلے بھی مسترد کرتے رہیں ہیں اور آج انھوں نے اسے خود قبول کیا ہے۔

’یہ ایک جعلی جی آئی ٹی ہے جس میں الزامات کے علاوہ کچھ نہیں ہے آج عدالت نے قبول کیا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔‘

واضح رہے کہ سابق وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم کے اعترافی بیان کی روشنی میں رینجرز نے ایف آئی آر درج کرائی تھی کہ ڈاکٹر عاصم نے اپنے ساتھی رہنماؤں کے کہنے پر اپنے ہسپتال میں ٹارگٹ کلرز، دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے علاج میں معاونت کی تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس 90 روز تحویل میں رکھنے کے بعد ڈاکٹر عاصم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والے ایم کیو ایم اور لیاری امن کمیٹی کے کارکنوں کے علاج کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

ناظم آباد تھانے پر رینجرز کے سپرنٹنڈنٹ محمد عنایت اللہ درانی کی مدعیت میں یہ مقدمہ 25 نومبر کو درج ہوا ہے جس میں مدعی نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ حکومت کی منظوری سے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔

اس ٹیم کے روبرو ڈاکٹر عاصم حسین نے انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اپنے نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن برانچ میں ہسپتال میں لیاری گینگ وار، جہادی تنظیموں اور متحدہ قومی موومنٹ کے زخمی دہشت گردوں اور مجرموں کو جو پولیس اور رینجرز کے مقابلوں میں زخمی ہوتے تھے علاج کی سہولیات فراہم کیں۔

اسی بارے میں