افغان مہاجر سامان اونے پونے بیچنے پر مجبور

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین ان دنوں شدید کشمکش کا شکار ہیں۔ ان میں بیشتر اب اپنے وطن واپسی کی تیاریاں کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پشاور کے چند ایک مقامات پر افغان تاجر اپنا سامان کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

’ہم 35، 30 سال سے یہاں رہ رہے ہیں۔ اکثر نوجوان یہیں پلے بڑھے اب واپسی کا سوچتے ہیں تو دل میں درد ہوتا ہے۔‘ یہ الفاظ ہیں ایک افغان تاجر کرامت خان کے، جو اپنی جھونپڑی نما دکان میں بیٹھے برتن صاف کر رہے تھے۔

کرامت خان نے بتایا کہ ایک طرف تو بے یقینی کی صورت حال ہے تو دوسری جانب پولیس اتنا تنگ کرتی ہے کہ ہر افغان مہاجر کو زبردستی اٹھا کر تھانے لے جاتی ہے۔

’ہم مجبور ہیں ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟ ساری زندگی ادھر ہی گزاری۔ اب دل نہیں چاہتا۔ لیکن جا رہے ہیں۔ ہم اب نقصان پر اپنا سامان بیچ رہے ہیں۔ ایک ہزار روپے کی چیز چھ سو روپے میں دے رہے ہیں۔‘

بورڈ بازار میں ان تاجروں سے بات چیت کے دوران پولیس کی گاڑی پہنچی اور دو افغان پناہ گزینوں کو گاڑی میں ڈال دیا۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان کے پاس کارڈز ہیں لیکن وہ زائد المیعاد ہو چکے ہیں۔

پولیس کی گاڑی اس علاقے میں خوف کی علامت بن چکی ہے، اکثر لوگ دکانیں خالی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور افغان پناہ گزینوں کے مطابق پولیس اہلکار پیسے لے کر پھر چھوڑ دیتے ہیں۔

پشاور کے بورڈ کے علاقے میں بڑی تعداد میں افغان شہری رہتے ہیں لیکن اب یہاں بھیڑ کم ہی نظر آتی ہے، جبکہ چند روز پہلے تک یہاں اتنے لوگ ہوتے تھے کہ کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ بورڈ بازار سے دائیں جانب راستہ تو بالکل ویران ہو گیا ہے، دکانیں کھلی ضرور ہیں لیکن دکاندار نظر نہیں آتے۔

ایک افغان بزرگ شہری فاروق جان نے بتایا وہ 33 سالوں سے یہاں مقیم ہیں اب حالات ایسے ہیں کہ ان کا واپس جانا ٹھہر چکا ہے۔

’مشکلات اتنی ہیں کہ بیان نہیں کر سکتے ، پولیس ہر کسی کو اٹھا کر لے جاتی ہے، چاہے جس کے پاس کارڈ ہے یا نہیں”، اسی لیے یہاں لوگ چیزیں آدھی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔‘

بورڈ بازار میں مختلف اشیا کی دکانیں ہیں، جس کی وجہ سے اسے چھوٹا کابل بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں سوئی دھاگے سے لیے روزمرہ استعمال کی تمام اشیا فروخت ہوتی ہیں۔

اس کے علاوہ آج کارخانو مارکیٹ میں بھی پولیس نے چھاپہ مارا جہاں سے چھ ایسے افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں پاس یہاں رہنے کی دستاویزات نہیں تھیں۔

خیبر پختونخوا میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی اور اس عرصے میں کوئی چھ ہزار سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو گرفتار کرکے واپس وطن بھیجا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں