چترال کے سر کٹے درختوں کی داستان

Image caption چترال میں دیار اور شاہ بلوت کے درخت کے گھنے جنگلات سب سے زیادہ ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کا پہاڑی ضلع چترال قدرت کی کئی حسین وادیوں پر مشتمل ہے لیکن گذشتہ کچھ عرصہ سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے اس علاقے کی خوبصورتی کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

چترال خیبر پختونخوا کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع سمجھا جاتا ہے۔ تقریباً 14800 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس ضلعے کو دو بڑے سب ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں ایک ’اپر‘ سب ڈویژن اور دوسرا لوئر سب ڈویژن شامل ہے۔ ان دونوں سب ڈویژنوں میں جنگلات ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔

تاہم جن علاقوں میں گھنے اور خوبصورت درخت سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں ان میں بمبوریت، رمبور، بیرت، ششی کوور، آئیون اور لوئر چترال کے علاقے اورسون شامل ہیں۔ چترال میں بنیادی طورپر دیار اور شاہ بلوط کے درخت کے گھنے جنگلات سب سے زیادہ ہیں۔ ان میں دیار سب سے زیادہ حسین اور قیمتی درخت سمجھا جاتا ہے اور جو پاکستان کا قومی درخت بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ درخت تقریباً 100 سال میں ایک تنا آور درخت کی شکل اختیار کرتا ہے۔

تاہم اب کچھ عرصے سے محکمہ جنگلات کی ناک کے نیچے اپر اور لوئر چترال کے علاقوں میں جنگلات کی کٹائی کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے جس سے علاقے کی قدرتی حسن کو شدید خطرات پیدا ہورہے ہیں۔

Image caption وادی اورسون میں مختلف مقامات پر جگہ جگہ دیار کے درختوں کو بے دریغ طریقے سے کاٹا گیا ہے

چترال شہر سے تقربیاً 70 کلومیٹر دور واقع پاک افغان سرحدی علاقے وادی اورسون میں مختلف مقامات پر جگہ جگہ دیار کے درختوں کو بےدریغ طریقے سے کاٹا گیا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں چند دن پہلے تباہ کن سیلاب بھی آیا تھا جس میں 29 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تین دن پہلے وادی اورسون جانے کا اتفاق ہوا جہاں راستے میں کئی مقامات پر دیار کے درخت کے کٹے ہوئے سر دکھائی دیے۔ وادی کے وسط میں آبادی کے قریب ایک ہی جگہ پر کئی دیار کے درخت کو مشینوں سے بے دری سے کاٹا گیا ہے جس سے علاقہ ایک قبرستان کا منظر پیش کرتا ہے۔

اورسون ویلج کونسل کے ناظم سمیع اللہ بھی اس دورے میں ہمارے ساتھ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کے اکثریتی آبادی کی زندگی کا دارومدار ان ہی جنگلات پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے کے عوام کو کوئی بنیادی سہولیات میسر نہیں، بیشتر لوگ بے روزگار ہیں یا وہ مال مویشی پال کر یا جنگلات کاٹ کر اپنے خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔

Image caption حکومت کی طرف سے مقامی لوگوں کو جنگلات کاٹنے کے پرمٹ یا اجازت نامے بھی جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت وہ مکان کی تعمیر اور دیگر ضرورت کےلیے دیار کے درخت ایک خاص مقدار میں کاٹ سکتا ہے

سمیع اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں محکمہ جنگلات کا کوئی اہلکار بھی نہیں آتا اور ایسے میں جب لوگوں کو ضرورت بھی ہو تو وہ جنگلات نہیں کاٹیں گے تو اور کیا کریں گے۔

چترال میں حکومت کی طرف سے مقامی لوگوں کو جنگلات کاٹنے کے پرمٹ یا اجازت نامے بھی جاری کیے گئے ہیں جس کے تحت وہ مکان کی تعمیر اور دیگر ضرورت کےلیے دیار کے درخت ایک خاص مقدار میں کاٹ سکتے ہیں۔ بعض غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے حکومت کے اس اقدام پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حکام کی طرف سے خود درختوں کے کاٹنے کے اجازت نامہ جاری کیےگئے ہیں جس کی آڑ میں بااثر افراد اور ٹمبر مافیا نے جنگلات کو قبرستانوں میں تبدیل کردیا ہے۔

چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی کا کہنا ہے کہ چترال میں جنگلات کاٹنے میں زیادہ تر بااثر سیاسی شخصیات ملوث ہیں اسی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے صوبہ بھر میں ایک ارب درخت لگانے کےدعوے تو کیے جا رہے ہیں لیکن کچھ عرصہ پہلے وادی بمبوریت میں دیار کے 144 قیمتی درخت کاٹے گئے تھے اور جب انکوائری ہوئی تواس میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر ملوث پائےگئے اور جن کو بعد میں چار کروڑ روپے جرمانہ بھی کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ جب حکمران جماعت کے افراد ان جرائم میں ملوث ہوں گے تو ایسے میں درختوں کا تحفظ کیسے ہوگا؟

Image caption فارسٹ افسر کے مطابق محکمہ جنگلات میں سٹاف کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس سے سارے ضلع پر نظر رکھنا انتہائی مشکل ہے

چترال میں شاہ بلوط کے درخت کے بھی بڑے بڑے گھنے جنگلات پائے جاتے ہیں اور بالخصوص بالائی چترال میں یہ درخت زیادہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم اس درخت کے کاٹنے پر حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ اس درخت کو علاقے میں ایندھن کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔

چترال میں محکمہ جنگلات کے سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر عمیر نواز کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت مقامی لوگوں کو بنیادی سہولیات اور متبادل روزگار کے مواقع فراہم نہیں کریں گے اس وقت تک جنگلات کی کٹائی پر مکمل طورپر قابو پانا مشکل نظر آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ چترال میں جن مقامات پر جنگلات کی غیر قانونی کٹائی ہورہی ہے وہاں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان پایا جاتا ہے اور جہاں لوگوں کے پاس درختوں کے کاٹنے کے علاوہ اور کوئی کمائی کا ذریعہ نہیں۔

فارسٹ افسر کے مطابق محکمہ جنگلات میں سٹاف کی شدید کمی پائی جاتی ہے جس سے سارے ضلع پر نظر رکھنا انتہائی مشکل ہے۔اس کے علاوہ فارسٹ آرڈینینس میں بھی کئی قسم کی کمزوریاں ہیں جسے موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

اسی بارے میں