بائیں بازو کے اصول پرست سیاست دان

تصویر کے کاپی رائٹ Zahid HUssein

معراج محمد خان کا خواب ملک پر مظلوم اور پِسے ہوئے لوگوں کی حکمرانی تھی اور وہ یہ خواب آنکھوں میں ہی لیے دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس خواب کی تکمیل کے لیے انھوں نے ایوب خان اور جنرل ضیاالحق کے علاوہ اس پیپلز پارٹی کو بھی چھوڑ دیا تھا جس کے منشور میں ان کی سوچ و افکار کا بھی نچوڑ شامل تھا۔

معراج محمد خان کی زندگی تصویروں میں

بائیں بازو سے وابستہ سیاسی نامور طالب علم اور مزدور رہنما معراج محمد خان جمعرات کی شب کراچی میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین مقامی قبرستان میں کی گئی۔

معراج محمد خان کی پیدائش اترپردیش کے ضلعے فرخ آباد میں ہوئی۔ وہ 1949 میں اس وقت تک بھارت میں رہے جب ان کے گھر کو اویکیو پراپرٹی قرار نہیں دیا گیا، جس کے بعد وہ پاکستان کے شہر کوئٹہ میں آکر آباد ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی منہاج برنا بھی نامور صحافی اور مزدور رہنما رہے۔

معراج محمد خان طلبہ سیاست سے پاکستان کے سیاسی افق پر ابھرے۔ 1959 ان کی سیاسی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جب طلبہ سیاست پر پابندی عائد کردی گئی اور معراج محمد خان سمیت بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ وہ ہی دن تھے جب امریکی صدر کی آمد کے موقعے پر بائیں بازو کے طلبہ رہنما اور صحافیوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ اسی دوران لاہور کے شاہی قلعے میں معروف کمیونسٹ رہنما حسن ناصر کی موت واقع ہوئی۔

1960 میں جب بائیں بازوں کی جماعتیں ماسکو نواز اور چین نواز دھڑوں میں تقیسم ہوئیں تو اس کا اثر طلبہ تنظیموں پر بھی ہوا اور معراج محمد خان چین نواز حلقے میں شامل ہوگئے۔

ایوب خان نے جب جمہوریت بحال کی اور طلبہ تنظیموں پر سے پابندی ختم کی تو 1962 میں کراچی میں پولو گراؤنڈ میں ایوب خان کی حامی مسلم لیگ کنونشن مسلم لیگ کے اجتماع میں طلبہ رہنما داخل ہوگئے اور انھوں نے سٹیج پر قبضہ کرکے اپنے مطالبات پیش کیے جس کے بعد معراج محمد خان سمیت بارہ طلبہ رہنماؤں کو لاہور بدر کردیا گیا۔

جامعہ کراچی کے شعبے پاکستان سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ جب معراج محمد خان سمیت 12 طلبہ رہنماؤں کو شہر بدر کیا گیا تو یہ ایک ملک گیر تحریک بن گئی تھی۔

’جب حیدرآباد پہنچے تو پورا شہر امڈ آیا اور وہاں سے بھی انھیں نکال دیا گیا، یوں وہ پنجاب میں داخل ہوگئے، جہاں جہاں جاتے وہاں پر کالجوں میں چھٹی ہوجاتی تھی۔ ایک جوش وہ خروش کا دور تھا جس کی سب سے بڑی علامت معراج محمد خان تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbcurdu zahid hussain
Image caption پیپلز پارٹی میں انھوں نے پہلے تنظیمی ذمہ داری سنبھالیں اور بعد میں انہیں وفاقی وزیر کے منصب پر فائز کیا گیا لیکن جلد ہی وہ مستعفی ہوگئے ان کے اختلافات کی ایک وجہ مولانا کوثر نیازی بھی بنے تھے

1965 میں جب پاکستان بھارت جنگ ہوئی تو اس وقت معراج محمد خان جیل میں تھے، حکومت نے انھیں گذارش کی کہ لوگوں سے ریڈیو پر خطاب کریں اور قومی یکہجتی کا مظاہرہ کریں جو انھوں نے کیا۔

ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان جب تعلقات کشیدہ ہوئے اور بھٹو مستعفی ہوکر کراچی پہنچے تو این ایس ایف نے انھیں عشائیہ دیا، جہاں بھٹو نے سوشلزم کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور جس نے انھیں بھٹو کے نزدیک قرار دیا اور وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ جب پیپلز پارٹی بنی تو بائیں بازو کے کئی لوگ اس میں شامل ہوگئے کیونکہ کمیونسٹ پارٹی کے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ انھیں پیپلز پارٹی کو اپنے اگلے مورچے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ معراج محمد خان پارٹی قیادت کے اشارے پر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے۔

تجزیہ نگار ڈاکٹر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ بھٹو کو این ایس ایف نے پلیٹ فارم فراہم کیا تھا اور کراچی میں مزدوروں اور طلبہ میں متعارف بھی انھوں نے کرایا۔

’پیپلز پارٹی کے قیام اور نظریات میں معراج محمد خان کا کلیدی کردار تھا، اس قدر کے حفیظ پیرزادہ اور ذوالفقار علی بھٹو کواردو اور فن تقریر سکھانے میں بھی ان کا کردار رہا۔ ان کا جو بنیادی نعرہ تھا روٹی کپڑا اور مکان اس کو عام کرنے میں ان کا اہم کردار رہا۔‘

پیپلز پارٹی میں انھوں نے پہلے تنظیمی ذمہ داری سنبھالیں اور بعد میں انھیں وفاقی وزیر کے منصب پر فائز کیا گیا لیکن جلد ہی وہ مستعفی ہوگئے ان کے اختلافات کی ایک وجہ مولانا کوثر نیازی بھی کہے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا ہے کہ معراج محمد خان کے جو خیالات اور نظریات تھے وہ ریاست کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے پارٹی چھوڑ دی جس کی وجہ سے انھیں بھٹو کے غصے کا سامنا کرنا پڑا اور انھیں جیل بھیج دیا گیا۔

’سیاسی جماعتوں کو سمجھوتے کرنے پڑتے ہیں۔ جو آئیڈیل سیاست کرتے ہیں ان کے سمجھوتے قابل قبول نہیں ہوتے، اس وجہ سے ان کا ان جماعتوں میں چلنا محال ہوجاتا ہے۔‘

پیپلز پارٹی کے بعد انھوں نے قومی محاذ آزادی کے نام سے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی اور جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت برطرف کرکے مارشل لاء لگایا گیا تو وہ اگلے مورچے پر تھے۔ اسی طرح وہ تحریک بحالی جمہوریت ایم آر ڈی کا بھی ایک کلیدی حصہ رہے۔

عمران خان نے جب تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تو معراج محمد خان اپنےسوچ و فکر کے ساتھ اس میں شامل ہوگئے اور انھیں پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنایا گیا۔

تجزیہ نگار اور صحافی مظہرعباس کے مطابق جب عمران خان نے جنرل مشرف کی حمایت کی تو اس وقت سے ان کے عمران خان سے نظریاتی اختلافات نے جنم لیا۔

مظہر عباس نے معراج محمد خان سے ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے انھیں بتایا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ مشرف 2002 کے انتخابات میں ان کی حمایت کریں گے لیکن ان کا خیال تھا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

’عمران خان کے ساتھ وہ جنرل مشرف سے ملاقات کے لیے چلے گئے، جہاں جنرل مشرف نے عمران خان کو کہا کہ آپ اچھے سیاسی کارکن ہیں لیکن نواز شریف کا مقابلہ چوہدری بہتر انداز سے کرسکتے ہیں۔‘

تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد وہ مزدور کسان پارٹی میں شامل ہوئے لیکن کوئی فعال کردار ادا نہیں کرسکے، ان دنوں انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھا اور صرف علمی و ادبی تقریبوں میں شرکت کرتے رہے۔

اسی بارے میں