سوشلستان: ’قندیل کوئی ہیرو نہیں تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ qandeelbaloch

سوشلستان میں اس بار اگر قندیل بلوچ کا ذکر نہ کیا جائے تو بات ادھوری رہے گی کیونکہ قندیل بلوچ نے سوشلستان کو اپنی مختصر آن لائن زندگی میں بہت زیادہ تبدیل کیا۔ مگر ہم ذکر کریں گے کہ کیسے نفرت کے پرچار کے لیے سوشل میڈیا اب ایک ہتھیار بن چکا ہے۔

’قندیل کوئی ہیرو نہیں تھی مگر قتل پر افسوس ہے‘

قندیل بلوچ نے جیسے اپنی زندگی میں بہت سے چیزوں کو چیلنج کیا اور کئی ایک کو بے نقاب مگر اپنی موت کے بعد قندیل نے پاکستان میں لبرل ازم اور حقوقِ نسواں کی بحث میں جس ذہنی انحطاط کو بے نقاب کیا ہے وہ اپنی جگہ ہے۔

یعنی لوگ قندیل کے قتل کی مذمت بھی کرنا چاہتے تھے مگر یہ بھی بتانا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ ’کوئی ہیرو نہیں تھی‘ یا دوسرا یہ کہ ’قندیل بلوچ نےجو بھی کیا وہ غلط تھا مگر اس کی ظالمانہ موت اس کی قسمت نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

یہ دونوں باتیں اس ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کی اہم رہنماؤں کے بیانات کا ایک حصہ ہیں مگر اس ساری صورتحال کا ایک خوفناک پہلو وہ ہے جس کی جانب ایک فیس بُک صارف مائرہ حیات نے لکھا۔

مائرہ لکھتی ہیں ’ہمیں اب اشرافیہ کے اُن لوگوں کے ساتھ بھی نمٹنا چاہیے جو اپنی راست دامنی اور امارت کا چادر اوڑھ کر حقوق نسواں کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ یعنی ان حقوقِ نسواں کے پرچارکوں کے بھاشن سنیں جس میں بڑے محفوظ فاصلے رکھ کر یہ بات کرتے ہیں کہ کیسے اس قتل سے اُن کا دل ٹوٹ گیا مگر وہ اسےکتنا قابلِ رحم سمجھتے تھے۔ اگر آپ ایک قتل کی جانے والی عورت کو دل صاف کر کے اس کی تحسین نہیں کرتے تو انسانیت پر رحم کریں اور اپنی زبان بند ہی رکھیں۔‘

سوشل میڈیا پر بڑھتا تشدد اور نفرت

اگر آپ جمعے کی صبح سوشل میڈیا پر نظر ڈالتے تو آپ کو ایک انگریزی اخبار کے خلاف ٹرینڈ نظر آتا جس میں اخبار کی انتظامیہ اور ایک کالم نگار کے خلاف تہذیب اور شرم و حیا کی تمام حدیں پھلانگتی ٹویٹس بھی نظر آتیں۔

اب یہ عمومی رائے عامہ ہو تو آپ کو تشویش ہوگی مگر ان میں سے 90 فیصد ایسی پروفائلز ہیں جنھیں تکنیکی زبان میں BOT کہا جاتا ہے یعنی بہت سارے اکاؤنٹس کمپیوٹر کی مدد سے چلانے والا نظام۔

یہ پتلی تماشا ہوتا تو شاید بات رک جاتی مگر بات اب حد سے بڑھتی جا رہی اور سوشل میڈیا پر نفرت اور تشدد پر اکسائے جانے کا عمل اب لوگوں کی زندگیوں کے لیے حقیقی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

قندیل سوشل میڈیا کی نفرت کا شکار ہونے والی پہلی عورت نہیں مگر خدشہ یہ ہے کہ وہ آخری بھی نہیں ہوں گی۔

کسے فالو کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد چند پاکستانی خواتین صحافی نے مل کی ایک ڈیجیٹل وال آف شیم یعنی ’ڈیجیٹل دیوارِ شرم‘ بنائی جس میں انھوں نے قندیل کے قتل کے بعد سامنے آنے والے شرمناک ردِ عمل کو اکٹھا کیا ہے۔ آپ خود ہی اس لنک پر کلک کر کے دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ آپ کو خبردار کرتے ہیں کہ اس ویب بلاگ پر لکھا گیا مواد آپ کے لیے تکلیف اور پشیمانی کاباعث بن سکتا ہے۔

اس ہفتے کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

کسی نے اس تصویر پر تبصرہ لکھا کہ ’کرکٹ میں بھی اب سافٹ کُو ہو گیا ہے۔‘

اسی بارے میں