’پارٹی جو بھی فیصلہ مشورے سے کرتی ہے لبیک کہتا ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی میں کوئی تضاد نہیں ہے اور پارٹی قیادت جو بھی فیصلہ مشورے سے کرتی ہے اس پر وہ لبیک کہتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے منصب سے سبکدوش کرنے کے فیصلے پر انھوں نے کہا کہ تبدیلی کا جو بھی فیصلہ ہے وہ پارٹی کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ سندھ اور یہاں کے عوام کی بہتری کے لیے ہوگا۔

٭ قائم علی شاہ کے آٹھ سال کیسے رہے؟

٭ سندھ کے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی، کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین منگل کو سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا باضابطہ اعلان کریں گے، جس کے لیے پیپلز پارٹی کے حلقے صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ کی نشاندہی کر چکے ہیں۔

سید مراد علی شاہ نے آج وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے بھی ملاقات کی۔ اس سے پہلے انھوں نے دبئی میں حر جماعت کے روحانی پیشوا اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا سے ملاقات کی تھی۔

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما تاج حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی ایک یلغار چل رہی ہے اور قائم علی شاہ نے پارٹی اور حکومت دونوں کو بڑی کامیابی سی چلایا ہے۔

’قائم علی شاہ ایک شریف النفس اور خاکسار شخص ہیں۔ شاید جو زبان قائم علی شاہ بولتے ہیں وہ زبان پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی سمجھ میں نہیں آتی ہے تو شاید جواب دینے کے لیے کسی اور کی ضرورت تھی۔‘

ہفتہ اور اتوار کو پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس دبئی میں ہوا۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسی بارے میں