قائم علی شاہ نےگورنر سندھ کو استعفیٰ پیش کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قائم علی شاہ تین مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، وہ 1988، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے

سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بدھ کو سپیکر سندھ اسمبلی اور صوبائی وزرا کے ساتھ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی اور انھیں اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔

گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق عشرت العباد نے انھیں درخواست کی کہ وہ اس وقت تک کام کرتے رہیں جب تک نیا وزیر اعلیٰ منتخب نہیں ہو جاتا۔

٭ قائم علی شاہ کے آٹھ سال کیسے رہے؟

٭پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں: قائم علی شاہ

٭ سندھ کے وزیراعلیٰ کی تبدیلی، کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے جمعے کو اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

168 کے ایوان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 92 اراکین ہیں۔

سندھ اسبملی کی اپوزیشن جماعتوں میں سے صرف پاکستان تحریک انصاف نے اپنا امیدوار لانے کا اعلان کیا ہے جب کہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ نواز کا موقف سامنے نہیں آیا۔

واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے گذشتہ دنوں تمام صوبوں کی پارٹی تنظیموں کو توڑ دیا تھا اور پارٹی کی تنظیِم نو کے لیے رابطہ کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے رواں ہفتے دبئی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سمیت صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس میں سندھ کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قائم علی شاہ تین مرتبہ وزیراعلیٰ سندھ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں، وہ 1988، 2008 اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔

اسی بارے میں