’پنجاب میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ خلاف ورزی‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی آپریشن کے نتیجے میں شدت پسندی کی وارداتوں میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے

انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل نے سینیٹ کے اجلاس کو تحریری طور پر بتایا ہے کہ رواں برس مئی اور جون کے مہینوں میں ملک کے تین صوبوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر 6200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

بدھ کو کامران مائیکل نے سینیٹ کے اجلاس کو بتایا کہ ان مقدمات میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، گینگ ریپ، اغوا برائے تاوان اور دیگر مقدمات شامل ہیں۔ سب سے زیادہ مقدمات آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں درج کیے گئے، جن کی تعداد چار ہزار سے زائد ہیں۔

* انسانی حقوق کے قوانین کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ

٭ ’پاکستان کو انسانی حقوق پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے‘

ان مقدمات میں سب سے زیادہ گرفتاریاں صوبہ پنجاب میں ہی ہوئیں جن کی تعداد 4500 سے زیادہ ہے۔

سب سے کم مقدمات صوبہ خیبر پختونخوا میں درج ہوئے جن کی تعداد 291 ہے۔

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف وزیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ کراچی آپریشن میں گرفتار ہونے والے ساڑھے آٹھ سو کے قریب ٹارگٹ کلرز نے کراچی میں سات ہزار سے زائد افراد کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔

بدھ کے روز انسانی حقوق کے بارے میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کو بتایا گیا کہ ان ٹارگٹ کلرز کو تھائی لینڈ، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

حزب مخالف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر نسرین جلیل کی سربراہی میں ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں رینجرز کے حکام کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جارہی۔

رینجرز حکام کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران رینجرز کے اہلکار نے چھ ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا، جبکہ اس سے پہلے رینجرز پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ رینجرز کے اہلکار لوگوں کی جبری گمشدگی کے واقعات میں ملوث ہیں۔

رینجرز حکام کی طرف سے قائمہ کمیٹی میں پیش کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق جو افراد پولیس حکام کے حوالے کیے گئے اُن میں 1100 سے زائد افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیے بغیر رہا کر دیا گیا، جبکہ دو ہزار کے قریب افراد کو ضمانتوں پر رہا کردیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 1200 سے زائد ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن کا تعلق نہ صرف کالعدم شدت پسند تنظیموں سے ہے بلکہ وہ شدت پسندی کی کارروائیوں میں بھی ملوث تھے۔

رینجرز حکام کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ آپریشن کراچی کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کیے گئے جن کی تعداد 1300 سے زائد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان مقدمات میں سب سے زیادہ گرفتاریاں صوبہ پنجاب میں ہی ہوئیں جن کی تعداد 4500 سے زیادہ ہے

اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد آپریشن پیپلز امن کمیٹی کے خلاف ہوئے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف بھی متعدد آپریشن کیے گئے۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کراچی آپریشن کے نتیجے میں شدت پسندی کی وارداتوں میں 80 فیصد جبکہ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں 75 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران لاہور میں بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا۔

بعدازاں اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے چیف جسٹس نے ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام کا جواب طلب کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں