لواری ٹنل: چترالیوں کے لیے ایک سہانا خواب

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دور افتادہ پہاڑی ضلعے چترال کے عوام کے لیے موسم سرما میں ’لائف لائن‘ کی حیثیت رکھنے والی ملک کے سب سے بڑی سرنگ لواری ٹنل کے منصوبے پر کام کے آغاز 11 سال قبل ہوا لیکن بار بار کی تاخیر کی وجہ سے یہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔

پہاڑی علاقے میں واقع لواری ٹنل چترالیوں کےلیے ہمشہ سے ایک سہانا خواب رہا ہے۔ ساڑھے آٹھ کلومیٹر اس طویل سرنگ پاکستان کا سب سے بڑا ٹنل سمجھا جاتا ہے جس پر تقریباً 26 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیاہے۔

٭ لواری کی نامکمل سرنگ: تصاویر

٭نامکمل لواری ٹنل سے ہزاروں زندگیاں متاثر

اس منصوبے پر پہلی مرتبہ کام کا آغاز سن 2005 میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا لیکن بعد میں حکومتی دلچسپی کم ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام بار بار تاخیر کا شکار ہوتا رہا۔

لواری ٹنل کے پراجیکٹ ڈائریکٹر انجنئیر محمد ابراہیم مہمند کا کہنا ہے کہ ابتدائی طورپر یہ ریل ٹنل کا منصوبہ تھا لیکن بعد میں حکومت کی طرف سے اسے روڈ ٹنل میں تبدیل کیا گیا جسکی وجہ سے منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2010 کے سیلاب اور اس کے علاوہ شدید بارشوں سے بھی وقتاً فوقتاً کام میں روکاوٹ پیش آتی رہی۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کے مطابق ’ آجکل دو شفٹوں میں دن رات تیزی سے کام جاری ہے اور اگلے سال یعنی مارچ 2017 تک تمام کام مکمل کرکے اسے عام ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے خصوصی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اس منصوبے کو وقت پر مکمل کردیا جائے اور اس کےلیے فنڈز کا بھی کوئی ایشو نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ لواری ٹنل کی تعمیر سے چترال کی تقریباً پانچ لاکھ آبادی کو ہر موسم میں اس سرنگ سے جانے کی سہولت میسر ہوگی۔

لواری ٹنل کے منصوبے میں چار پل اور دونوں جانب رابطہ سڑکیں بھی تعمیر کی جائیں گی جس سے اندازہ ہے کہ تین گھنٹے کا راستہ 15منٹ میں طے کیا جاسکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چترال کی طرف ایک اور سرنگ بھی بنائی جارہی ہے جسے ٹنل نمبر دو کا نام دیا گیاہے۔ یہ ٹنل تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر پر مشتمل ہے جو مرکزی ٹنل سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ٹنل نمبر دو کی تعمیر سے پہاڑی کا بیشتر حصہ ختم ہوجائے گا اور گاڑیوں کو ایک سرنگ سے نکل کر صرف ایک پل کو عبور کرنا ہوگا جس کے بعد دوسری سرنگ میں داخل ہوں گی جس سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو کوئی مسئلہ پیش نہیں آئےگا اور ٹریفک میں بھی رواں دواں رہے گی۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق اس منصوبے کو 2008 میں مکمل کیا جانا تھا لیکن آٹھ سال کی تاخیر سے چترال کے عوام کو اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ یہ منصوبہ مقررہ وقت یعنی آئندہ برس تک مکمل کرلیا جائے گا۔

چترال کے ایک شہری عمران اللہ خان نے کہا کہ لواری ٹنل کا منصوبہ 11 سالوں سے التوا کا شکار ہے اور اسکی وجہ سے کئی افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ موسم سرما میں چترال پاکستان سے کٹ کر رہ جاتا ہے کیونکہ لواری پاس کا پہاڑی راستہ برف باری کی وجہ سے مکمل طورپر بند ہو جاتا ہے اور لوگوں کے پاس ہوائی جہاز کے ذریعے سے ملک کے دیگر علاقوں میں جانے کےلیے اور کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔

ٹنل کے قریب موجود ایک ٹرک ڈرائیور محمود عالم نے کہا کہ بڑی اور سامان سے بھری گاڑیوں کو پہاڑی راستے سے چترال پہنچنا ایک بڑے خطرے سے کم نہیں۔

انھوں نے کہا کہ روزانہ کوئی نہ کوئی ٹرک لواری پاس سے گرجاتی ہے جس سے کئی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہے۔ا

’ حکومت نے پہلے سے اعلان کر رکھا ہے کہ ٹنل کھل جانے کے بعد بھی بیڈفورڈ گاڑیوں کو سرنگ سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جو ان کے بقول نہ صرف زیادتی ہے بلکہ ڈرائیوروں کو مارنے کے مترادف ہے۔‘

بی بی سی کی ٹیم کو خصوصی طورپر لواری ٹنل کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ لواری ٹنل اگلے سال عام ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے گا لیکن اس قسم کے دعوے پہلے بھی کیے گئے تھے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اس مرتبہ یہ دعوی کس حد تک درست ثابت ہوتا ہے

اسی بارے میں