سامعہ کیس:’والدہ اور بہن تفتیش میں بےگناہ ثابت‘

تصویر کے کاپی رائٹ kazam
Image caption سامعہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے اپنی بیوی کے مبینہ قتل کے مقدمے میں پانچ ملزمان کو نامزد کیا تھا

پاکستان کے ضلع جہلم میں پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کے مبینہ قتل کے مقدمے میں پولیس نے دو نامزد ملزمان کو بےگناہ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وقوعہ کے وقت ان دونوں کی جائے حادثہ پر موجودگی کے ثبوت نہیں ملے۔

پولیس کی طرف سے مبینہ طور پر بےگناہ قرار دیے جانے والوں میں سامعہ کی والدہ امتیاز بی بی اور ان کی بہن مدیحہ شاہد شامل ہیں۔

٭سامعہ کے ’سابق‘ شوہر کی ضمانت قبل از گرفتاری

٭ برطانوی خاتون کی ہلاکت، والد اور رشتہ دار زیرِ حراست

جہلم کی پولیس کے مطابق یہ دونوں خواتین 28 سالہ سامعہ شاہد کے قتل کے وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیں اور جس وقت پولیس کو جب اس واقعہ کے بارے میں معلومات ملیں تو دونوں ماں بیٹیاں انگلینڈ پہنچ چکی تھیں۔

مقامی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اس کی تصدیق ایف آئی اے کے ریکارڈ سے کی گئی ہے جس کے مطابق امتیاز بی بی اور مدیحہ شاہد 18 جولائی کو بیرون ملک جا چکی تھیں جبکہ سامعہ کی موت 20 جولائی کو ہوئی ہے۔

سامعہ کے دوسرے شوہر مختار کاظم نے اپنی بیوی کے مبینہ قتل کے مقدمے میں جن پانچ ملزمان کو نامزد کیا تھا ان میں مذکورہ خواتین کے علاوہ سامعہ کے والد، ان کے کزن مبین اور ان کے پہلے شوہر شکیل شامل ہیں۔

سب ڈویژنل پولیس افسر منگلا ڈی ایس پی شاہد صدیق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں نامزد پانچویں ملزم شکیل کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کے بعد اس مقدمے کی تحقیقات آگے بڑھیں گی۔

مقامی عدالت نے ملزم شکیل کو چھ اگست تک ضمانت قبل از گرفتاری دے رکھی ہے جبکہ سامعہ کے والد اور کزن مبین پولیس کی حراست میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ kazam
Image caption سامعہ شاہد نامی 28 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی موت رواں ماہ کی 20 تاریخ کو پاکستان کے ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں واقع ہوئی تھی

ڈسٹرکٹ ہسپتال جہلم سے جاری ہونے والی سامعہ شاہد کی ابتدائی پوسٹمارٹم کی رپورٹ کے بارے میں شاہد صدیق نے کہا کہ ڈاکٹر نے مقتولہ کی گردن پر زخم کے نشان کا ذکر تو ضرور کیا ہے لیکن اسے موت کی وجہ قرار نہیں دیا۔

شاہد صدیق کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے منہ سے جھاگ بھی نکل رہا تھا جس سے اس کی موت زہر دینے سے بھی ہو سکتی ہے۔

تاہم اُن کے مطابق سامعہ کے والد شاہد نے جو اس مقدمے میں نامزد ملزم بھی ہیں، پولیس کو بتایا تھا کہ سامعہ کو مرگی کے دورے بھی پڑتے تھے اور ایسے مریض کے منہ سے بھی جھاگ نکلتی ہے۔

ایس ڈی پی او کا کہنا تھا کہ فارینزک رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔ اُنھوں نے بتایا کہ یہ رپورٹ آئندہ دو سے تین دن میں پولیس کو موصول جائے گی۔

خیال رہے کہ سامعہ شاہد نامی 28 سالہ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون کی موت رواں ماہ کی 20 تاریخ کو پاکستان کے ضلع جہلم میں ان کے آبائی گاؤں پنڈوری میں واقع ہوئی تھی۔

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چودہری نثار علی خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام کو اپنی نگرانی میں معاملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کرنے قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہ کے سابقہ شوہر چوہدی محمد شکیل نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر لی ہے۔

ضلع جہلم میں تھانہ منگلا کے ایس ایچ او محمد عقیل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس چوہدری محمد شکیل کا بیان ریکارڈ کرے گی۔

اسی بارے میں