مراد علی شاہ سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ dawn.com
Image caption سندھ اسمبلی کے 91 میں سے 88 ارکان نے مراد علی شاہ کے حق میں ووٹ دیا

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مراد علی شاہ کو صوبہ سندھ کی اسمبلی نے بھاری اکثریت کے ساتھ نیا قائد ایوان منتخب کر لیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے جمعے کو اپنے عہدہ کا حلف اٹھایا۔ وہ سندھ کے 27 ویں وزیر اعلیٰ ہیں۔

٭ پیپلز پارٹی کی ساکھ کی بحالی!

٭ مراد علی شاہ کی زندگی پر ایک نظر

ان کا انتخاب جمعے کو سندھ کی صوبائی اسمبلی میں ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں ہوا۔ اس عہدے کے لیے ان کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے خرم شیر زمان سے تھا۔

ووٹنگ کے بعد نتائج کا اعلان کرتے ہوئے سپیکر آغا سراج درانی کا کہنا تھا کہ 168 ارکان پر مشتمل اسمبلی کے 91 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا اور مراد علی شاہ نے 88 جبکہ خرم شیر زمان نے تین ووٹ حاصل کیے۔

ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی کوشش تھی کہ مراد علی شاہ کو بلا مقابلہ کامیاب کرایا جائے لیکن تحریک انصاف نے اس میں ساتھ نہیں دیا، دیگر اپوزیشن جماعتوں ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ن کا کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CM House Sindh
Image caption سید قائم علی شاہ کی کابینہ کے رکن مراد علی شاہ کو ان کی جگہ وزیر اعلیٰ نامزد کیاگیا

اسمبلی کے اجلاس میں خفیہ بیلٹ یا ہاتھ اٹھا کر رائے شماری کی بجائے انتخاب کے لیے اراکین کا نام پکارا جاتا رہا اور وہ سٹاف کو اپنا اسمبلی کارڈ دے کر اپنے امیدوار کے نام پر نشان لگاتے رہے۔

سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوگی، جس میں سید مراد علی شاہ سے گورنر عشرت العباد حلف لیں گے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے 25 جولائی کو صوبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کو تبدیل اور کابینہ میں ردو بدل کرنے کا اعلان کیا تھا اور سید قائم علی شاہ کی کابینہ کے رکن مراد علی شاہ کو ان کی جگہ وزیر اعلیٰ نامزد کیاگیا تھا۔

وزیر اعلیٰ نامزد ہونے سے قبل مراد علی شاہ سندھ کابینہ میں خزانہ، توانائی اور پیداوار کی وزارتیں سنبھالے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں