پی آئی اے کا عملہ ’پہلے ہی زیادہ نیا کہاں سے لائیں؟‘

پی آئی اے کے چیئرمین کے انٹرویو کی تگ و دو میں پی آئی اے کارپوریشن سے کارپویشن لیمیٹڈ کمپنی بن گئی اور تین چیئرمین بدل گئے۔

اعظم سہگل کو چیئرمین بنے ابھی چند ماہ ہوئے ہیں اور ملتے ہی میرا پہلا سوال یہی تھا کہ کیا اپنے فیصلے پر افسوس تو نہیں ہو رہا جس پر ان کا جواب تھا کہ انھوں نے سوچ سمجھ کر اس کام میں ہاتھ ڈالا ہے۔

٭’پی آئی اے میں انتظامیہ کی عملداری، اختیار نہ ہونے کے برابر‘

اعظم سہگل ملک کے بڑے سرمایہ دار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی کپمنیاں میڈیا سے لے کر روزمرہ کی زندگی کی مصنوعات بنانے کے کاروبار کرتی ہیں۔

پی آئی اے میں اس سے قبل کئی شخصیات چیئرمین کے عہدے پر فائز رہی ہیں اور کئی بار چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے ایک ہی شخصیت کے پاس رہے مگر کمپنی بننے کے بعد اب چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر علیحدہ تعینات کیے گئے۔

اعظم سہگل پی آئی اے کے لیے نئے نہیں اور گذشتہ کچھ عرصے سے اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن ہیں فرق صرف یہ ہے کہ اب وہ چیئرمین بن چکے ہیں۔

کیا اعظم سہگل کے پاس کوئی نیا منصوبہ ہے کیونکہ پی آئی اے کو بدلنے کی کوششیں آج سے نہیں بلکہ کافی عرصے سے جاری ہیں؟

اعظم سہگل کا منصوبہ اگلے دو سالوں میں پی آئی اے طیاروں کی تعداد دوگنی کرنے کا ہے جس کے نتیجے میں اس وقت اضافی عملے کی کھپت ہو سکے گی اور کمپنی مزید منافع کما کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ پریمیئر سروس کا آغاز اور پی آئی اے کی موجودہ سروس کو بہتر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی آئی اے میں چھ یونینز اور ایسوسی ایشنز ہیں جن کی گذشتہ ایک دہائی میں دو بار ہڑتال کے نتیجے میں ایئرلائن کو اربوں روپے کا نقصان ہوا

کیا وہ پی آئی اے پر سفر کرتے ہیں؟

اس کے جواب میں انھوں نے بیرون ملک سفر کی بات تو گول کر دی مگر اندورن ملک سفر کے لیے پی آئی اے کی تعریف کی اور کہا کہ پی آئی امریکہ جیسے ملک میں چلنے والی کئی ایئرلائنز سے بہت بہتر ہے۔

مگر انھوں نے کہا کہ طیارے کے ’کیبن کے عملے کو کم عمر کا ہونا چاہیے، ان کا وزن بھی کم ہونا چاہیے، سمارٹ ہونا چاہیے اور فعال ہونا چاہیے اور اس پر وہ کام کر رہے ہیں‘ مگر اس کے ساتھ بھی انھوں نے پہلے والی بات کی کہ ’اس میں یونینز اور ایسوسی ایشنز کا بہت کردار ہوتا ہے۔ اور ہماری ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہے۔ اس میں ہمیں کافی دشواریاں ہیں قانونی رکاوٹیں ہیں۔ لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں لیکن آئندہ کے لیے یہ بات ہمارے منصوبے میں شامل ہے کہ عملے کی عمر کم رکھی جائے۔‘

پی آئی اے کے چیئرمین جہاں بہت پرامید نظر آئے وہیں یونینز اور عملے کو بدلنے کے معاملے بے بس بھی دکھائی دیے کیونکہ عمر رسیدہ فضائی میزبانوں کے معاملے میں عدالت نے اُن کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں جبکہ عملہ پہلے ہی اُن کے پاس زیادہ ہے تو نیا کہاں سے لائیں؟

مگر ایک بات انھوں نے واضح کہی کہ ان کے خیال میں پیسے کی کمی کی وجہ سے جو سروس متاثر ہوئی اسے وہ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ پیسے تو پہلے ہی ضائع ہو رہے ہیں تو کیوں نہ سروس بہتر کی جائے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پی آئی اے کے گرد قائم سیاست اور گھمبیر مسائل میں سے یہ چیئرمین اسے نکالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر گذشتہ کئی چیئرمین کی طرح وہ بھی پی آئی اے کے مسائل تلے دب کر اپنے پیشروؤں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا؟

اسی بارے میں