کوہاٹ میں شادی شدہ انڈین خاتون کی خود کشی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایک شدہ شادی خاتون نے خود کشی کر لی ہے۔

کوہاٹ پولیس کے ضلعی سربراہ صہیب اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ پانچ دن قبل کوہاٹ کے علاقے کے ڈی اے میں پیش آیا۔

٭ چوکیدار کی خودکشی کی وجہ کیا تھی؟

٭ ’ماریہ نے خود کشی نہیں کی، اسے جلایا گیا تھا‘

٭ ’ماریہ کو قتل نہیں کیا گیا اس نے خود کشی کی تھی‘

صہیب اشرف کے مطابق پولیس اس مقدمے کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔

اس مقدمے کے تفتیشی افسر اور ایس ایچ او تھانہ کے ڈی اے زرداد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ کوہاٹ کے ایک شہری عبدالواحد سے چند سال قبل شادی کرنے والی انڈین خاتون عائشہ نے اتوار کو اپنے گھر میں کمرے کا دروازہ بند کر کے خود کشی کر لی۔

پولیس اہلکار کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے خود کو سر میں ایک گولی ماری تاہم ان کے جسم پر تشدد کے کوئی نشانات نہیں ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق ابھی تک اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی جب کہ پولیس کی جانب سے اس بات کی تفتیش جاری ہے کہ آیا خاتون نے خودکشی کی ہے یا انھیں قتل کیا گیا ہے۔

تھانہ کے ڈی اے میں درج پولیس رپورٹ کے مطابق عائشہ کا تعلق انڈیا سے تھا اور انھوں نے تقریباً 15 سال قبل کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شہری عبدالواحد سے دبئی میں پسند کی شادی کی تھی۔

پولیس کے مطابق عائشہ پہلے سکھ مذہب کی پیروکار تھیں تاہم شادی سے پہلے انھوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ وہ تین بچوں کی ماں بھی تھیں۔

پولیس نے مطابق عائشہ کے خاوند عبدالوحد نے چند سال پہلے دوسری شادی کرلی تھی جس کی وجہ سے گھر میں اکثر اوقات کشیدگی رہتی تھی۔

عائشہ کے دیور عدنان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بھابی بدستور انڈین شہری تھیں اور انھیں ابھی تک پاکستانی شہریت نہیں ملی تھی۔

عدنان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی بھابی نے چند سال پہلے پاکستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی اور ان کا کیس چل رہا تھا جس کے مطابق انھیں اس سال پاکستانی شہریت ملنے کا امکان تھا۔

عدنان کے مطابق شادی کے بعد ان کی بھابی تین چار مرتبہ اپنے والدین سے ملنے انڈیا بھی گئی تھیں۔

اسی بارے میں