ہزاروں پاکستانیوں کے واجبات، سعودی حکام سے بات چیت

وزارت خارجہ کے حکام نے سعودی عرب میں مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانیوں کے واجبات دلوانے کے لیے سعودی حکام سے بات چیت شروع کردی ہے۔

اس ضمن میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے سعودی عرب کے وزیر قانون اور دیگر حکام سے بات چیت کی ہے جنھوں نے اس معاملے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت دو ایسی کمپنیاں ہیں جن میں ساڑھے آٹھ ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں اور جن کے واجبات ابھی تک ادا نہیں ہوئے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کمپنیوں میں سعد کنٹرکٹنگ اور سعودی اوجر شامل ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ متعدد پاکستانیوں کے ان کمپنیز میں اپنے معاہدے مکمل ہوچکے ہیں اور اُنھوں نے ان کمپنیوں میں جتنا عرصہ گزارا ہے اس کے واجبات لینا چاہتے ہیں جبکہ دیگر پاکستانی اپنے ماہانہ کے واجبات لینے کے خواہاں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بہت سے پاکستانی اس ضمن میں وہاں کی عدالتوں میں بھی جاچکے ہیں۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ واجبات کی ادائیگی کا معاملہ صرف پاکستانیوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں مقیم دیگر ملکوں کے شہریوں کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ سعودی فرماروا نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس میں ایسی کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ان غیر ملکیوں کے واجبات فوری ادا کریں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کی ہدایت پر سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش ایسے مسائل کے حل کے لیے پاکستانی سفارت خانے میں ایک سیل قائم کردیا گیا ہے جہاں پر کوئی بھی پاکستانی اپنے مسائل کے بارے میں درخواست دے سکتا ہے۔

نفیس ذکریا کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے شہروں ریاض اور جدہ میں پاکستانی سفارت خانے کا عملہ اس بارے میں متعلہ حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔

روز گار کے سلسلے میں پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد سعودی عرب میں مقیم ہے جن کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ ہے

اسی بارے میں