لاہور ہائی کورٹ کے بدعنوان اہلکاروں کے خلاف کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کی بنیاد پر ہائی کورٹ کے افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی کورٹ کے لگ بھگ 100 اہلکاروں کے خلاف مختلف الزامات میں کارروائی شروع کی گئی، جس کا حکم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے مختلف شکایات کی بنا پر دیا تھا۔

سید منصور علی شاہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد خبردار کیا تھا کہ بدعنوان عنصر کی عدلیہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ہائی کورٹ کے جن اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ان میں ڈپٹی رجسٹرار اور اسسٹنٹ رجسٹرار کے عہدے کے افسران بھی شامل ہیں۔

رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سید خورشید انور رضوی کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق اسسٹنٹ رجسٹرار سمیت کئی اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایک ڈپٹی رجسٹرار اور تین اسسٹنٹ رجسٹرار سمیت 85 اہلکاروں کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے چار اہلکاروں کو چھ ماہ کے لیے نگرانی میں رکھنے کے احکامات بھی دیے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے 28 جون کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد 27 جوڈیشل افسران کو او ایس ڈی بنا دیا تھا۔

او ایس ڈی بنائے جانے والے جوڈیشل افسران میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور سول جج شامل تھے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے 28 جوڈیشل افسروں کو ان کے نامناسب رویے کی وجہ سے عہدے سے ہٹایا اور ان رویے میں بہتری کے لیے انھیں ترتیبی کورس کرانے کی ہدایت کی۔

اسی بارے میں