اسلام آباد:سارک ممالک کے سیکریٹری داخلہ کا اجلاس

جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس سے قبل بدھ کو ان ممالک کے سیکریٹری داخلہ کا اجلاس منعقد ہوا ہے۔

وزرائے داخلہ کا ایک روزہ اجلاس جمعرات کو منعقد ہونا ہے جس میں انڈین وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

٭ ’راج ناتھ سارک میں شرکت کریں گے دوطرفہ ملاقات نہیں‘

٭’ کشمیر میں انڈیا کی پالیسیاں امن کی راہ میں رکاوٹ‘

راج ناتھ سنگھ اس اجلاس میں شرکت کے لیے بدھ کی شام پاکستان پہنچ رہے ہیں اور اس موقع پر بعض مذہبی جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

ان کے دورۂ پاکستان کی مخالفت صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ انڈیا میں بھی منگل کو سخت گیر ہندو تنظیم ’ہندو ‎سینا‘ کے کارکنوں نے وزیر داخلہ کے دورۂ پاکستان کے خلاف پارلیمان کے باہر احتجاج کیا تھا۔

سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان علاقائی سکیورٹی کے موضوع پر گفتگو ہونی ہے لیکن تمام نظریں ایک مرتبہ پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کسی دو طرفہ ملاقات کے امکان پر لگی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خیال ہے کہ انڈین وزیر داخلہ بدھ کی شام اسلام آباد پہنچیں گے

پاکستان، انڈیا، افغانستان، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش، مالدیپ اور نیپال پر مشتمل اس علاقائی تعاون کی تنظیم کے ڈھاکہ میں سنہ 2005 میں منعقدہ سربراہی اجلاس میں طے پایا تھا کہ رکن ممالک کے وزرائے داخلہ ہر سال باقاعدگی سے ملاقات کریں گے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں پر تعاون کو بڑھایا جا سکے۔

اس کے بعد پہلی ملاقات ڈھاکہ میں 2006 میں ہوئی تھی۔ اسلام آباد میں ہونے والا اجلاس سارک وزرائے داخلہ کا ساتواں اجلاس ہوگا اور اس سے پہلے آخری اجلاس ستمبر 2014 میں کٹھمنڈو میں منعقد ہوا تھا۔

اس مرتبہ بھی اسلام آباد اجلاس کا انعقاد انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے خطرے میں پڑ گیا تھا لیکن انڈیا نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھیجنے کا اعلان اس شرط پر کیا کہ اس دورے کے دوران کوئی دو طرفہ ملاقات نہیں ہوگی۔

اس پر پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جواب میں کہا کہ انھیں بھی ملنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ ’ہم بھی اسی پچ پر کھیلیں گے جس پر بھارت کھیلے گا۔‘

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان وِکاس سوروپ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اجلاس میں علاقائی تعاون پر غور ہوگا۔

ان کا اصرار تھا کہ انڈیا کی شرکت ملک کی ’ہمسائے پہلے‘ کی پالیسی اور سارک کے زیر اثر علاقائی تعاون کا مظہر ہے۔ ’یہ ہماری علاقے میں سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے کی اہمیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں