وزیر اعظم نااہلی کیس، ’پڑھے جانے والے ثبوت جمع کرائیں‘

Image caption الیکشن کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت17 اگست تک ملتوی کر دی

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق درخواست دینے والی سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی درخواستوں کے ہمراہ دستاویزی ثبوت لے کر آئیں۔

الیکشن کمیشن نے یہ حکم ملک کی حزب مخالف کی چار جماعتوں کی جانب سے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام آنے کے بعد میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے۔

٭ عوامی تحریک کی بھی نواز شریف کے خلاف درخواست

٭ پیپلز پارٹی نواز شریف کی نااہلی کے لیے پیٹیشن دائر کرے گی

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا حان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے بینچ نے ان درخواستوں کی بدھ کو سماعت کی۔ اس موقع پر الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان اس بینچ میں موجود تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سردار لطیف کھوسہ نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے اپنے اثاثوں سے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے اپنے اثاثے چھپائے جس کے بعد ان کے بچوں نے آف شور کمپنیاں بنائی ہیں جن کا ذکر پاناما لیکس میں بھی آیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اپنے اثاثے چھپانے کے علاوہ ٹیکس بھی چوری کیا ہے اور اسی لیے اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اس مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا یہ درخواست وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے سے متعلق ہے یا ان کے بچوں کو جس کے جواب میں سردار لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے بچوں کے بیانات میڈیا کی زینت بنے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ خرچے اور کاروبار سے متعلق اپنے والد پر ہی انحصار کرتے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سے استفسار کیا کہ ان کے پاس اس بارے میں جو ثبوت ہیں وہ پڑھ کر سنائیں جس کے جواب میں سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ ثبوت پڑھے نہیں جا رہے ہیں جس پر بینچ کا کہنا تھا کہ جب درخواست گزار سے یہ ثبوت نہیں پڑھے جا رہے تو عدالت ان ثبوتوں کو بنیاد بنا کر کیسے فیصلہ کرے گی؟

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے پاناما لیکس میں نام آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جس پر سردار رضا خان کا کہنا تھا کہ کیا پاناما لیکس میں پاکستان کے وزیر اعظم کا نام آیا ہے جس کا انھوں نے نفی میں جواب دیا۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم سانحہ ماڈل ٹاون کے مقدمے میں نامزد ملزم ہیں اس لیے ایسے شخص کو نااہل قرار دیا جائے جس پر الیکشن کمیشن نے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ فوجداری مقدمات کی سماعت کے لیے متعقلہ فورم سے رجوع کریں۔

الیکشن کمیشن نے ان درخواستوں کی سماعت17 اگست تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں