ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے امریکی کمانڈر سے مدد طلب

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption ہیلی کاپٹر صبح آٹھ بجکر 45 منٹ پر روس کے لیے روانہ ہوا تھا جس میں چھ پاکستانی اور ایک روسی سوار تھا

پاکستانی فوج نے تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان کے صوبہ لوگر میں جمعرات کو کریش لینڈنگ کرنے والا ہیلی کاپٹر حکومت پنجاب کا ہی تھا۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

٭ روس کے ساتھ چار ایم آئی 35 ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ

٭ آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ، بارہ افراد ہلاک

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں افغانستان میں گرنے والی ہیلی کاپٹر کے عملے کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ ہیلی کاپٹر کے عملے کے افراد کی محفوظ واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے۔

حکومت پنجاب کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر معمول کی مرمت کے لیے افغانستان کے راستے ازبکستان جا رہا تھا اور یہ جمعرات کی صبح ضلع عذرا میں گر گیا تھا۔

اس ہیلی کاپٹر سوار چھ پاکستانی اور ایک روسی شہری کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ انھیں طالبان نے اغوا کر لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے جمعرات کی شب ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کے افغانستان میں کریش لینڈنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکلسن سے اس سلسلے میں فون پر بات کی ہے اور عملے کی بازیابی میں مدد طلب کی ہے۔

جنرل باجوہ کے مطابق جنرل نکلسن نے پاکستانی فوج کے سربراہ کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس معاملے میں ہر ممکن مدد کریں گے۔

حکومت پنجاب کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مرمت کے لیے ہیلی کاپٹر کی روس روانگی معمول کی بات تھی۔

’1500 گھنٹے کی پرواز کے بعد ہیلی کاپٹر کی مینٹیننس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ہیلی کاپٹر میں چھ پاکستانی اور ایک روسی سوار تھا۔ روسی اہلکار نیویگیٹر تھا جبکہ چھ پاکستانیوں میں سے چار ریٹائرڈ فوجی افسر تھے۔‘

یاد رہے کہ افغانستان کے صوبہ لوگر کے ضلع عذرا کے گورنر حمید اللہ حمید کے مطابق جمعرات کو ایک ہیلی کاپٹر نے علاقے میں کریش لینڈنگ کی اور عملے کے چھ اراکین کو طالبان نے یرغمال بنا لیا ہے۔

تاہم افغان میڈیا کے مطابق طالبان کی کسی تنظیم نے ابھی تک پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کو یرغمال بنانے کی تصدیق نہیں کی ہے۔