’پاکستان شدت پسندی کے خلاف دنیا کی مدد کر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنی سر زمین پر دہشت گردوں کے خلاف نہ صرف کارروائیاں کر رہا ہے بلکہ وہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں دنیا کی ہر ممکن مدد بھی کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار خدائے نور ناصر نے بتایا کہ دفترِ خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا اور اپنی سر زمین کو دہشت گروں کی پناہ گاہیں بننے نہیں دے گا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا بیان یہ بیان امریکہ کی جانب سے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔

٭ امریکہ نے پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی

٭ ایف 16 کی خریداری، امریکہ کا پاکستان کی مدد سے انکار

٭ ’کانگریس کے اہم ارکان پاکستان کو فوجی امداد دینے کے حق میں نہیں‘

نفیس ذکریا کا مزید کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کے سینیئر ارکان اور میڈیا کے نمائندے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ان مقامات کا دورہ کر چکے ہیں جنھیں شدت پسندوں سے پاک کر لیا گیا ہے اور وہاں ترقیاتی کام جاری ہیں۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکی اہلکاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کے دورے کے دوران آپریشن ضربِ عضب میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو سراہا تھا اور ان پر اطمینان کا اظہار بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ کرنے کے الزام میں پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کے 30 کروڑ ڈالر روک دیے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری دفاع ایش کارٹر نے وہ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس سے یہ رقم پاکستان کو مل سکتی تھی۔

كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سنہ 2002 سے ہی امریکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں پاکستان فوجی مدد کرتا رہا ہے۔

یہ ایک طرح سے وہ رقم ہوتی ہے جو پاکستان کہتا ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف كارروائی میں خرچ کی ہے۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کا یہ فیصلہ پاکستانی فوج کے لیے بڑا دھچکا ہے کیونکہ وہ برسوں سے اس رقم کو اپنے بجٹ کا حصہ سمجھتے آئے ہیں۔

محکمۂ دفاع کے مطابق كولیشن سپورٹ فنڈ کے تحت سب سے زیادہ امداد اب تک پاکستان کو دی گئی ہے اور سنہ 2002 سے اب تک اسے 14 ارب ڈالر دیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں