کوئٹہ: سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 40 افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ترجمان کے مطابق دونوں علاقوں سے 40 مشتبہ افراد کو گرفتارکر کے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران 40 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کے مطابق ایف سی اور پولیس نے کوئٹہ شہر میں دو مختلف علاقوں سریاب اور کلی اسماعیل میں سرچ آپریشن کیے۔

ترجمان کے مطابق دونوں علاقوں سے 40 مشتبہ افراد کو گرفتارکر کے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے 14اگست اور 23 مارچ کی مناسبت سے سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر تقاریب کا انعقاد کے قبل سکیورٹی آپریشن کیے جاتے ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جاتی ہیں۔

اس سال بھی اگست کے مہینے کے آغاز سے کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سرچ آپریشنز کے دوران گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے اگست کے مہینے کی جو علامتی اہمیت ہے اس کو ریاست دشمن عناصر سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے لوگ بلوچستان کے طول عرض میں یوم آزادی کو جوش و خروش سے مناتے ہیں ۔ جب ریاست دشمن عناصر ان کو سبوتاژ کرنے کے لیے اپنی کاروائیوں کی منصوبہ کرتے ہیں تو پھر سیکورٹی فورسز انٹیلیجینس پر مبنی آپریشن کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب کوئٹہ میں بلوچ ریپبلیکن اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کے زیر اہتمام ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ مظاہرہ تنظیم کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل فیضان بلوچ کے حوالے سے تھا۔

تنظیم کے مطابق وہ ان چھ افراد میں شامل تھے جن کے بارے میں سرکاری حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ بم دھماکوں میں ملوث تھے۔

سرکاری حکام نے ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا ان لوگوں کو تین اگست کی شب گرفتار کیا گیا۔

تاہم مظاہرے کے شرکاء نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فیضان بلوچ کو 25جون کو گرفتار کیا گیا تھا اور تشدد کے ذریعے ان سے اعترافی بیان لیا گیا ہے ۔

اسی بارے میں