’شدت پسندی کی وجہ جوابی کارروائی کی حکمت عملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکہ پیر کی صبح شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہوا

چھ برس قبل کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیر کی صبح جیسا ہی ایک منظر تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ پچھلی بار کوئٹہ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر کی ہلاکت کے بعد ان کی کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ آج ایک وکیل رہنما کو ٹارگٹ کرنے کے بعد وکلا برادری نشانہ بنی۔

یہی نہیں جنازہ گاہ ہو کھیل کا گراؤنڈ یا پھر کوئی مصروف بازار ایسے واقعات گذشتہ ایک دہائی میں متعدد بار دیکھنے کو ملے۔

٭بلوچستان مختلف واقعات میں چھ ہلاکتیں

٭تین مغویوں کی لاشیں برآمد

انگریزی اخبار ڈان نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم شاہد کہتے ہیں کہ گذشتہ عرصے میں دہشت گردی کے واقعات کم تو ہوئے لیکن اب گذشتہ دو ماہ کے دوران ایک مرتبہ پھر ان کارروائیوں میں تیزی نظر آئی ہے۔

’ایسا دھماکہ تو نہیں ہوا لیکن پولیس کو نشانہ بنایا گیا، ایف سی پر تین بم حملے ہوئے، لا کالج کے پرنسپل کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا، حالات دوبارہ خرابی کی جانب جا رہے ہیں۔‘

اس قسم کے واقعات کے بعد جہاں عدم تحفظ کی فضا ایک بار پھر پیدا ہوتی ہے وہیں یہ سوالات پھر سر اٹھانے لگتے ہیں کہ شدت پسندوں کی کمر توڑنے کے دعوے کیا صرف دعوے ہی ہیں اور نیشنل ایکشن پلان کس قدر جامع اور پراثر ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان بھی شامل ہیں

معروف ٹی وی اینکر سلیم صافی کہتے ہیں کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پاکستان میں ریاستی سطح پر اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ’کسی ایک یا دوسرے آپریشن کے بعد ہماری حکومت یہ سمجھ بیٹھتی ہے کہ شاید دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے لیکن جب کوئٹہ جیسے واقعات ہوتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ نہیں وہ مسئلہ تو ایک دوسری شکل میں موجود ہے۔‘

سینئیر تجزیہ نگار امتیاز گل کہتے ہیں کہ یہ ماضی میں ہونے والے اس قسم کے واقعات کا ’ری پلے‘ ہے۔

’دہشت گردوں کے خلاف آپریشن 60سے 70 فیصد کامیاب ہوئے ہیں تاہم کوئٹہ دھماکے کا واقعہ اس جنگ کا حصہ ہے جو مختلف ممالک اس خطے میں لڑ رہے ہیں اور ان میں ایسی قوتیں بھی شامل ہیں جو پاکستان کے ساتھ سکور سیٹل کرنا چاہتی ہیں۔‘

سلیم صافی بھی ان سے متفق ہیں وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ اس خطے میں مختلف ایجنسیوں کی پراکسی وار(در پردہ جنگ) ہے اور اس کا تعلق پاکستان کی خارجہ پالیسی سے بھی ہے۔

’ پراکسی وار پاکستان اور انڈین انٹیلیجینس کے درمیان ہے، جو ایرانی اور دیگر انٹیلیجینس کے درمیان ہے اور پاکستان اور افغان انٹیلیجینس کے درمیان ہے۔ وہ پراکسی وار کسی صورت میں موجود ہے، پاکستان میں دہشت گردی افغانستان کے حالات کا فال آؤٹ بھی ہے۔‘

سینیئر تجزیہ نگار اور ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی کوئی حتمی تاریخ اور دورانیہ معلوم نہیں ہے۔

وہ سمجھتے ہیں کہ منظم طریقے سے کیے جانے والے اس حملے کا ایک مقصد یہ بھی نظر آتا ہے کہ کوئٹہ سے تعلیم یافتہ لوگوں کو ختم کیا جائے۔

آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے ایک 20 نکاتی جامع منصوبہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے آرمی چیف اور وزیراعظم نے حملے کے بعد کوئٹہ کا دورہ کیا

سلیم شاہد کہتے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل تو ہو رہا ہے لیکن خود پاکستانی فوج اپنے بیان میں حکومت سے کہہ چکی ہے کہ وہ اس کی تمام شقوں پر عملدرآمد کرے۔

شہزاد چوہدری کا خیال ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے بہت سے ایسے نکات ہیں جن پر اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر لوگ ان نکات کو ہاتھ نہیں لگا رہے ۔

امتیاز گل کا کہنا ہے کہ’ فوج کی جانب سے تو فاٹا، سندھ اور بلوچستان میں فوج نے جا کر حکومت کی رٹ قائم کی ہے لیکن نیشنل ایکشن کا دوسرا حصہ سویلین ادارے تھے۔ پولیس انٹیلیجنس بیورو کی کارکردگی ہے جس پر ابھی بہت سا کام ہونا باقی ہے۔‘

اب بھی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے کن اہم نکات کو نظر انداز کر رہی ہے؟

اس سوال کے جواب میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ پہلی خرابی تو یہ ہے کہ ہماری حکومت نے ایکشن کے بجائے ری ایکشن پلان بناتی ہے یعنی کسی بھی واقعے کے بعد ایک فوری جوابی کارروائی کا منصوبہ مرتب کرتی ہے۔

اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے سلیم صافی کا کہنا تھا کہ سول اور ملٹری قیادت نیشنل ایکشن پلان اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک ہی رائے پر متفق نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سول قیادت غفلت اور نااہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اگر وہ کسی دباؤ میں ہے بھی تو اس کی جانب سے کبھی بھی عوام کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔سول حکومت نہ تو نیکٹا کو فعال کر سکی نہ مدارس کی اصلاحات، نہ اداروں میں رابطوں کی بہتری کے لیے کچھ کر سکی ہے۔‘

ماہرین سمجھتے ہیں کہ اگرچہ دہشت گردی کے واقعات ایک بار پھر بڑھتے نظر آ رہے ہیں تاہم جب تک پاکستان میں نظریاتی، سٹریٹیجک اور سفارتی سطح پر درست اقدامات نہیں کیے جاتے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں