کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، ’69 افراد ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ شدید زخمی ہونے والے 26 افراد کو کراچی منتقل کیا جا رہا ہے۔

یہ دھماکہ پیر کی صبح شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہوا۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ عبدالرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 69 ہے جبکہ 112 افراد زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 34 وکلا شامل ہیں۔

*’شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کا حکم‘

٭ ’ہر طرف لاشیں تھیں، لوگ سکتے میں تھے‘

٭ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ: تصاویر

*فیس بک کی کوئٹہ دھماکے پر سیفٹی چیک کی سہولت

بلوچستان کے وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے منگل کے روز تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کے چند سرجنز کو سی ایم ایچ کوئٹہ اور کراچی جانے والے مریضوں کے ساتھ روانہ کیا گیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا سے رابط کر کے کوئٹہ میں وکیل رہنما کی ہلاکت اور بعد میں سول ہسپتال میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

دھماکے کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کوئٹہ پہنچ گئے ہیں جبکہ جنرل راحیل نے خفیہ ایجنسیوں کو ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

جس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جنھیں پیر کی صبح ہی کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان بھی شامل ہیں

صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں وکلا اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے افراد کو طیارے کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق ہلاک شدگان میں سے کم از کم 18 وکلا ہیں جن میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کچھ زخمیوں کو بولان میڈیکل کالج اور سی ایم ایچ بھی منتقل کیا گیا ہے

بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں اندازاً آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ جب ہسپتال میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تو وہاں سکیورٹی کی صورتحال کیسی تھی۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کوئی بھی غفلت پائی گئی تو متعلقہ افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روز جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں سماء ٹی وی کے کیمرہ مین ملک عارف اور کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں