’دو شریفوں کا علیحدہ علیحدہ کوئٹہ جانے کا تاثر اچھا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’وزیراعظم اور آرمی چیف کو اکھٹے ہی کوئٹہ جانا چاہیے تھا‘

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد وزیراعظم ملک میں حالت جنگ کا اعلان کریں۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ بم دھماکے کے خلاف وفاقی وزیرِ قانون کی جانب سے پیش کی گئی مذمتی قرارداد متقفہ طور پر منظور کی گئی جس میں واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتار اور انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا گیا۔

* بلوچستان سوگوار، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی درخواست

* کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ، ’69 افراد ہلاک‘

* کوئٹہ کے سول ہسپتال میں دھماکہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو نکتۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے اہلکار جگہ جگہ موجود ہوتے ہیں اور کسی بھی آدمی کو تلاشی لیے بغیر جانے نہیں دیا جاتا تو پھر بلوچستان ہائی کورٹ کے صدر کو کیسے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا اور خود حملہ آور سول ہستپال پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوگیا؟پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ یہ واقعہ خفیہ اداروں کی ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔

انھوں نے کہا ’دو شریفوں‘ کے علیحدہ علیحدہ کوئٹہ جانے کا تاثر اچھا نہیں نکلا۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کو اکھٹے ہی کوئٹہ جانا چاہیے تھا۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کوئٹہ واقعے کے چند گھنٹوں کے بعد وہاں پہنچ گئے تھے جب کہ وزیر اعظم نواز شریف آرمی چیف کے کوئٹہ پہنچنے کے تین گھنٹے کے بعد بلوچستان پہنچے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ محض بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ پر الزام عائد کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے لیے حکومت کو تمام ممکنہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم کسی کی ’پراکسی وار‘ تو نہیں لڑ رہے۔

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم اس واقعہ کی تحقیقات سکیورٹی اداروں کو سونپیں اور اگر وہ اس میں ناکام رہیں تو پھر ان اداروں کے سربراہوں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا جائے۔

ان کے مطابق حکومت، فوج اور عدلیہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجدید عہد کرنا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں کم از کم 71 افراد ہلاک ہوئے جن میں 40 سے زائد وکیل تھے

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پارلیمان کو اس بارے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کا صرف یہ کردار نہیں ہوناچاہیے کہ ملک میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو تو اس میں ہلاک ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی جائے۔

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھتے ہیں تاہم وہ بلوچستان میں حکمراں اتحاد میں شامل ہیں۔

بلوچستان کےگورنر محمود خان اچکزئی کے بھائی ہیں جب کہ ان کی جماعت کے چار ارکان بلوچستان کابینہ کا حصہ ہیں۔

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن عبدالستار باچانی نے قومی اسمبلی میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود انھوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا پسند نہیں کیا۔

عبدالستار باچانی نے کہا کہ اگر ایسا وزیر داخلہ ہوگا تو پھر ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں کیسے رک سکتی ہیں؟

اسی بارے میں