اے آر وائی کے پروگرام پر 45 روز کے لیے پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ ARY
Image caption کونسل نے پابندی کے خاتمے کے بعد 29 ستمبر کو اے آر وائی نیوز کو اسی پروگرام میں معافی نشر کرنے کی بھی سفارش کی ہے

پاکستان الیٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘ پر 45 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے، جس کا اطلاق 15 اگست سے ہوگا۔

٭ ’نوٹس کے بعد غلطی دہرانے پر ٹی وی چینل بند کر دیا جائے‘

پیمرا کا کہنا ہے کہ سندھ کونسل نے اس پابندی کی سفارش کی تھی۔ اتھارٹی کے اعلامیے کے مطابق اے آر وائی کے مذکورہ پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے چیف جسٹس سندھ ہائی کے بارے میں جس انداز میں بات کی وہ آئین کے آرٹیکلز 19 اور 204 کی روح کے خلاف ہے۔

ان آرٹیکلز کے مطابق ’خبر یا تبصرے کے دوران الفاظ و لب لہجہ جس سے عدلیہ اور فوج پر بہتان تراشی یا ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بارے میں بالواسطہ یا بلا واسطہ تضیحک و توہین کا پہلو نکلتا ہو یا پھر بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ساکھ، پیشہ ورانہ دیانت کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شک و شبہات ابھرنے کی ممانعت ہے۔‘

’اس کے علاوہ پیمرا آرڈینس کے سیکشن 20 سی اور الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق کی بھی صریحا خلاف ورزی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption اتھارٹی کے اعلامیہ کے مطابق اے آر وائی نے مذکورہ پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ پر بہتان تراشی کی

کونسل نے مذکورہ اظہار وجوہ نوٹس او چینل کی جانب سے جمع کرائے جانے والے جواب اور سماعت کے دوران چینل کا تفصیلی موقف سننے کے بعد اے آر وائی نیوز کے پروگرام پر 45 روز کے لیے پابندی کی سفارش کی ہے، جس کا اطلاق 15 اگست سے 28 تسمبر 2016 تک ہوگا۔

پیمرا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 45 روز کی پابندی کے عرصے میں مذکورہ پروگرام کے اینکر نیوز چینل پر اور نہ ہی تجزیہ کار، مہمان کے طور پر کسی بھی نیوز بلیٹن یا پروگرام میں معمول کی نشریات یا لائیو پروگرام میں شریک ہوسکیں گے۔

کونسل نے پاندی کے خاتمے کے بعد 29 ستمبر کو اے آر وائی نیوز کو اسی پروگرام میں معافی نشر کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔

دوسری جانب اے آر وائی نے اس پابندی کو آزادی صحافت پر ایک اور کاری ضرب قرار دیا ہے اور چینل کی ویب سائیٹ پر موجود بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پیمرا نے ایک صحافی ہوتے ہوئے صحافی پر پابندی لگائی ہے۔

اے آر وائی کے وکیل ایڈوکیٹ معین الدین کا کہنا ہے کہ پیمرا نے یہ اقدام عجلت اور جلد بازی میں کیا ہے۔

اسی بارے میں