’کراچی میں 70 ہزار سے زائد ٹارگٹڈ آپریشنز، 80 ہزار گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پانچ برسوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں 1500 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس اور رینجرز نے گذشتہ پانچ برسوں میں مختلف علاقوں میں 70 ہزار سےزائد ٹارگٹڈ آپریشن کیے ہیں، جن میں 80 ہزار سے زائد ملزمان گرفتار ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت کو حکومت سندھ نے تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ پانچ برسوں کے دوران غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں 1500 اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں 450 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایک لاکھ سے زائد افغان شہریوں پر بھی نظر رکھی گئی ہے اور غیر قانونی طور پر مقیم 28 سے زائد افغانیوں کو گرفتار کرمقدمات دائر کیے گئے ہیں، پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سنگین نوعیت کے 105 مقدمات کو فوجی عدالتوں کو بھجوائے گئے ہیں۔

گرفتار ہونے والے 80 ہزار ملزمان میں قتل، دہشت گردی کے دیگر جرائم میں ملوث 15 سو سے زائد ملزمان بھی شامل ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جب تک شہر میں نئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب ہو اس وقت تک پرانے کیمروں کی مرمت کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے حکومت کی درخواست قبول کرلی تاہم چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ان کیمروں کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرفتار ہونے والے 80 ہزار ملزمان میں قتل، دہشت گردی کے دیگر جرائم میں ملوث 15 سو سے زائد ملزمان بھی شامل ہیں

عدالت کو بتایا گیا کہ کیمروں کی خریداری کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سندھ پولیس کو جی ایس ایم لوکیٹر دینے کا معاملہ حل ہوگیا ہے، آنے والے تین سے چھ ماہ میں یہ لوکیٹر سندھ حکومت کو فراہم کردیے جائیں گے، جس سے ملزمان تک رسائی میں آسانی ہوگی۔

چیف جسٹس نے کوئٹہ بم دھماکے کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے پولیس کو مشورہ دیا کہ عوام میں شعور کے لیے مہم چلائی جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہسپتال دہشت گردوں کا سافٹ ٹارگٹ ہوسکتے ہیں، کسی بھی واقعے کے بعد ہسپتالوں میں سکیورٹی کے انتظامات ہونے چاہیں۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ نجی سکیورٹی کمپنیوں میں بھرتی ہونے والوں کی سکریننگ نہیں ہوتی، اس سے طالبان اور را کے لوگ بھرتی ہوسکتے ہیں، جس کو روکنے کے لیے حکمت عملی بنائے جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ان سکیورٹی کمپنیوں کے گارڈز بینک ڈکیتیوں سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث نکلتے ہیں۔ان کمپنیوں میں گارڈز کی بھرتی کے لیے سکریننگ کو یقینی بنائی جائے، ان کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔ یہاں اندھوں کو بھی لائسنس مل جاتا ہے ایسا نہیں ہونے چاہیے۔‘

اسی بارے میں