سائبر کرائم کا متنازع قانون عدالت میں چیلینج

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سائبرکرائم کی دفعہ 10 ،18 اور 32 بنیادی حقوق کےخلاف ہیں

پاکستان کی قومی اسمبلی سے جمعرات کو منظور ہونے والے متنازع سائبر کرائم ایکٹ کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلینج کر دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں اس قانون کی تین شقوں کو بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیا گیا ہے۔

٭ سائبر جرائم اور سزائیں

٭ ’اب پاکستانی سوشل میڈیا سہما سہما رہے گا‘

سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظوی کے بعد اب یہ بل صدر مملکت کے پاس بھیجا جائے گا جن کے دستخط کے بعد یہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

سینیٹ میں منظوری سے پہلے اس بل میں اپوزیشن کی جماعتوں کی 50 سے زیادہ ترامیم کو شامل کیا گیا تھا تاہم قومی اسمبلی میں منظوری سے پہلے اس میں مزید کوئی ترمیم نہیں کی گئی

اس بِل میں ایسے 23 جرائمکی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی۔

جمعے کو پاکستان عوامی تحریک کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اشتیاق چودھری ایڈووکیٹ نے اس قانون کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔

درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ سائبر کرائم بل کی شق نمبر 10 ،18 اور 32 آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق اور آزادئ رائے کے حقوق کے خلاف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ریاست ایسا کوئی قانون نہیں بناسکتی جو بنیادی حقوق کےخلاف ہو۔‘

درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سائبر کرائم کا قانون سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس میں یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا کہ ایکٹ میں سائبر دہشتگردی کی ایک شق شامل کی گئی ہے جس کے بعد سائبر کرائم ایکٹ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے مساوی قانون بن گیا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک وقت میں دو مساوی قوانین کا کوئی جواز اور گنجائش نہیں ہے۔

اس درخواست میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ سائبر کرائم ایکٹ کی شق 18 کی وجہ سے ہتک عزت کا ایک نیا قانون متعارف کرا دیا گیا ہے اس طرح ایک وقت میں دو قوانین ایک دو سے متصادم ہوجائیں گے۔

درخواست میں کہا گیا کہ اس قانون میں ایف آئی اے کو لامحدود اختیارات دے دیے گئے جس کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارہ بغیر تحقیق کیے کسی بھی شہری کے موبائل اور کمپیوٹر کا ڈیٹاحاصل کر سکتاہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ سائبر کرائم ایکٹ میں شامل بنیادی حقوق سے متصادم شقوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

خیال رہے کہ سائبر کرائم بل میں شامل دسویں شق سائبر دہشت گردی، 18ویں کسی شخص کے عزت و وقار کے خلاف جرائم اور 32ویں مجاز افسر کے اختیارات کے بارے میں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صارفین کے ڈیٹا تک رسائی ذاتی مواد کے تحفظ کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے: نگہت داد

اختیارات

  • سائبر کرائم بل میں پی ٹی اے کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی متنازع یا مجرمانہ قرار دیے گئے مواد یا ویب سائٹ تک رسائی روک سکتا ہے یا اسے ہٹا سکتا ہے۔
  • سائبر کرائم بل میں انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صارفین کا ڈیٹا کم سے کم ایک سال تک محفوظ رکھیں تاکہ حکام اسے کسی بھی قسم کی تفتیش کے لیے حاصل کر سکیں۔
  • سائبر کرائم بل کے تحت کسی کو غیر مطلوبہ اور غلط مواد بھیجنے پر بھی کڑی سزائیں ہیں۔
  • سائبر کرائم بل کے تحت ایسا مواد نشر یا شائع کرنا جرم قرار دیا گیا ہے جس سے کسی شخص کی کردار کشی ہو یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچے۔

اعتراضات و خدشات

اس بل کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سائبر حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن نگہت داد کا کہنا ہے کہ اس بل میں ایک تو کسی بھی مواد کے مجرمانہ ہونے کے لیے دی گئی وجوہات کی تشریح موجود نہیں ہے اور دوسرا یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کون لوگ ہوں گے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ کوئی بھی مواد یا ویب سائٹ اس زمرے میں آتی ہے اسی لیے کسی ایک ادارے کو اس طرح کا مکمل اختیار دینا مناسب نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ صارفین کے ڈیٹا تک رسائی ذاتی مواد کے تحفظ کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

وکیل یاسر لطیف ہمدانی کا بھی کہنا ہے کہ پی ٹی اے کو صوابدیدی اختیار دینا ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اداروں میں بیٹھے افراد کے ذاتی خیالات اور مذہبی رجحانات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انھیں سائبر جرائم کی مکمل آگاہی ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس پر بہترین عمل درآمد کروا سکیں۔ کوئی بھی قانون اس وقت بدترین بن جاتا ہے اگر اس پر عمل کروانے والے جج ہی ٹھیک نہ ہوں۔

اسی بارے میں