ممبئی حملہ کیس: ملزم سفیان ظفر کا جسمانی ریمانڈ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تفتیشی ٹیم اس شخص کو بھی تلاش کر رہی ہے جس نے ملزمان کو بھارتی کرنسی کے علاوہ غیر ملکی کرنسی بھی فراہم کی تھی

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سہیل اکرام نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں ایک اور ملزم سفیان ظفر کو تین روز کے جسمانی ریمانڈ پر اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے حوالے کردیا ہے۔

ملزم سفیان کو چند روز پہلے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ گذشتہ سات سال سے اس مقدمے میں اشتہاری تھا۔

اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم سفیان ظفر بھارت کے شہر ممبئی میں حملے کے لیے جانے والے اجمل قصاب اور دیگر افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو دیگر سامان بھی فراہم کیا تھا۔

اہلکار کے مطابق ملزم گذشتہ کئی برسوں سے روپوش تھا تاہم مخبر کی اطلاع پر اس کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

اہلکار کے مطابق تفتیشی ٹیم اس شخص کو بھی تلاش کر رہی ہے جس نے ملزمان کو بھارتی کرنسی کے علاوہ غیر ملکی کرنسی بھی فراہم کی تھی۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے پر عدالتی کارروائی گذشتہ پانچ ماہ سے تعطل کا شکار تھی تاہم عدالت نے اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری اظہر کی طرف سے پیش کی جانے والی درخواست کو منطور کرلیا ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے اس کشتی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے جس کے بارے میں سرکاری وکیل کا دعوی ہے کہ یہ کشتی اجمل قصاب اور دیگر افراد کو بھارتی پانیوں تک پہنچانے میں استعمال ہوئی تھی۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس ضمن میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو کراچی جاکر اس کشتی کا معائنہ کرے گا اور اس بارے میں سرکاری گواہ کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے گا۔

عدالتی کمیشن ایک ہفتے میں اس بارے میں رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔ اس مقدمے کا مرکزی ملزم ذکی الرحمن لکھوی ان دنوں ضمانت پر ہیں جبکہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دیگر چھ افراد گذشتہ سات سال سے راولپنڈی کی اڈیالہ میں ہیں اور متعقلہ عدالتیں ان افراد کی ضمانت کی درخواستیں متعدد بار مسترد کرچکی ہیں۔

اسی بارے میں