پاکستانی ہیلی کاپٹر کا عملہ واپس پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت پنجاب کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر معمول کی مرمت کے لیے افغانستان کے راستے ازبکستان جا رہا تھا اور یہ گذشتہ جمعرات کی صبح ضلع عذرا میں گر گیا تھا

افغان صوبے لوگر میں چار اگست کو گرنے والے پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایک روسی سمیت عملے کے چھ ارکان اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

٭ ’عملے کی بازیابی کے لیے رسمی و غیر رسمی کوششیں جاری‘

٭ ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے امریکی کمانڈر سے مدد طلب

خیال رہے کہ حکومت پنجاب کا ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر معمول کی مرمت کے لیے چار اگست کو افغانستان کے راستے ازبکستان جا رہا تھا کہ افغان صوبے لوگر کے ضلع عذرا میں گر گیا تھا۔

اطلاعات تھیں کہ اس پر سوار چھ افراد کو جن میں سے پانچ پاکستانی اور ایک روسی شہری ہے کو طالبان نے پکڑ لیا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو حکومتی ذرائع نے بتایا کہ یہ رہائی افغانستان کے مقامی جرگے کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔

ان افراد سے پاکستانی حکام تحقیقات کریں گے کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی کیا وجوہات تھیں اور اس کی بھی تفصیل حاصل کی جائے گی کہ وہ کس کی تحویل میں تھے۔

اس سے پہلے حکومت پنجاب کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا ’اس ہیلی کاپٹر میں پانچ پاکستانی اور ایک روسی سوار تھا۔ روسی اہلکار نیویگیٹر تھا جب کہ پانچ پاکستانیوں میں سے چار ریٹائرڈ فوجی افسر تھے۔‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے حکومت ’تمام رسمی اور غیر رسمی‘ ذرائع استعمال کیے گئے۔

افغان صدر اشرف غنی نے بھی صوبائی حکام کو ان افراد کی جلد از جلد بازیابی کی ہدایات جاری کی تھیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس سلسلے میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے سربراہ اور افغان صدر سے بھی رابطہ کیا تھا۔

اسی بارے میں