پاکستان کا یومِ آزادی’ کشمیریوں کی آزادی‘ کے نام

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر انڈیا سے مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں سال ملک کے یومِ آزادی کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کے نام کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’ہم نے اس 14 اگست کو کشمیر کی آزادی کے نام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

٭ ’انڈیا کا دہشت گردی پھیلانے کی کوششوں پر احتجاج‘

٭ ’پاکستان کو اب بلوچستان میں زیادتیوں کا جواب دینا ہوگا‘

یوم آزادی پر قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ’اہلِ کشمیرکی نئی نسل نے نئے جذبے کے ساتھ آزادی کا عَلم اٹھایا ہے۔ میں اس سال 14اگست کو ان اہلِ کشمیر کے نام کر تاہوں جنھوں نے ریاستی جبر کا مقابلہ کیا مگر آزادی کے جذبے کوزندہ رکھا ہوئے ہے۔‘

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں علیحدگی پسند کشمیری رہنما برہان الدین وانی کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔

عوام اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جولائی سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے پاکستان کے یومِ آزادی کو کشمیریوں کے نام کرنے کا اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کی وجہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی پاکستان سے ہونے والی معاونت ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو بلوچستان اور اپنے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ زیادتیوں پر بھی جواب دینا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ پہلی مرتبہ ہے جب انڈیا نے پاکستان کے اندر ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آواز اُٹھائی ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر انڈیا سے مذاکرات دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ انڈیا کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے آغاز سے پہلے پاکستان کو سرحد کے پار دہشت گردوں کی معاونت بند کرنا ہو گی۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کرے گا اور جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں